اوپن اے آئی کا مستقبل خطرے میں، کیا 2027 تک کمپنی دیوالیہ ہو جائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت اے آئی کی تیزی سے ترقی نے عالمی ٹیکنالوجی اور مختلف صنعتی شعبوں کو بدل کر رکھ دیا ہے مگر اس کے باوجود مستقبل کی مالی صورتحال کا درست اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔
کچھ اسے صنعتی انقلاب اور خوشحالی کے طور پر دیکھتے ہیں تو کچھ اسے روایتی شعبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔ تاہم نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نگار نے ایک خاص دعویٰ کیا ہے کہ اوپن اے آئی اپنی اے آئی منصوبہ بندی کے نتیجے میں 18 ماہ کے اندر نقدی کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
گذشتہ سال کی ایک بیرونی رپورٹ کے مطابق، اوپن اے آئی 2025 میں تقریباً 8 ارب ڈالر خرچ کرے گی، جو 2028 تک بڑھ کر 40 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ کمپنی خود 2030 تک منافع بخش ہونے کی توقع رکھتی ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے ماہرِ معاشیات سیبسٹین مالابی کے مطابق، چاہے اوپن اے آئی اپنے زیادہ امیدافروز وعدوں میں نظرِ ثانی کرے اور حصص کے ذریعے سرمایہ کاری حاصل کرے، تب بھی مالی خلا بہت بڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
مالابی کے مطابق نئی اے آئی کمپنیاں روایتی کمپنیوں جیسے مائیکروسافٹ یا میٹا کے مقابلے میں زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ پرانی کمپنیوں کے پاس پہلے سے منافع بخش کاروبار موجود ہیں اور وہ صبر کے ساتھ وقت گزرنے کا انتظار کر سکتی ہیں۔
مالابی نے یہ بھی واضح کیا کہ زیادہ تر صارفین مفت سروسز استعمال کر رہے ہیں اور کسی بھی اشتہار یا استعمال کی حد لگنے پر آسانی سے متبادل سروس پر منتقل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، جیسے جیسے اے آئی روزمرہ زندگی میں گہرائی سے رچ بس جائے گی صارفین کا پلیٹ فارم تبدیل کرنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ بوٹس صارفین کی ترجیحات، خواہشات اور جذباتی پروفائل تک تفصیل سے جان جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
مالی ماہرین کے مطابق اے آئی کا یہ مالی ’اوروبوروس‘ (اپنی ہی دم کھانے والا سانپ) بظاہر خود کو نگلنے کے لیے تیار ہے مگر اس میں سب سے زیادہ خطرہ نئے اور چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی اور صارفین اے آئی پر انحصار اے آئی ٹیکنالوجی اے آئی دیوالیہ نئی ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی اور صارفین اے ا ئی پر انحصار اے ا ئی ٹیکنالوجی نئی ٹیکنالوجی اوپن اے آئی کے مطابق اے ا ئی کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔