کوئی ان سے پوچھے اپوزیشن لیڈرز کے نوٹی فکیشنز 5 ماہ تک کیوں روکے؟ علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ کوئی ان سے پوچھے اپوزیشن لیڈرز کے نوٹی فکیشنز 5 ماہ تک کیوں روکے؟ ان سے کوئی پوچھے پاکستان کن اصولوں پر چل رہا ہے؟ آئین کی خلاف ورزی پر ان سے کوئی نہیں پوچھ رہا؟
ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کا آج دن ہے، پولیس نے معمول کی سیکیورٹی کو تبدیل کرلیا، عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کو داہگل ناکے سے بھی ایک کلومیٹر دور روک لیا گیا۔
بانی کی بہنوں اور کارکنوں نے آج نئی جگہ پر دھرنا دے دیا، علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نجی سوسائٹی کے قریب ماربل فیکٹری ناکے پر موجود ہیں جہاں بانی کی بہنوں اور کارکنان نے نجی سوسائٹی کے گیٹ کے قریب دھرنا دے دیا۔
ماربل فیکٹری ناکے کے قریب علیمہ خان اور کارکنان نے قرآن خوانی کی۔ پولیس کی بھاری نفری اطراف میں موجود رہی، پولیس نے کارکنان کو آگے جانے سے روکنے کے لیے نجی سوسائٹی کے گیٹ کے سامنے رکاوٹیں لگا کر راستہ بند کر دیا۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کے نوٹی فکیشن پانچ ماہ تک کیوں روکے گئے؟ اپوزیشن لیڈرز کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرکے یہ غیر آئینی کام کررہے تھے، ان سے کوئی پوچھے پاکستان کن اصولوں پر چل رہا ہے؟ آئین کی خلاف ورزی پر ان سے کوئی نہیں پوچھ رہا؟
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ملاقات نہیں بانی کی رہائی چاہیے، بانی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کا لیڈر ہے، 8 فروری کی کال کا اپوزیشن لیڈر کے نوٹی فکیشن سے کوئی تعلق نہیں، بانی کو غیر قانونی طریقے سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈرز ان سے کوئی علیمہ خان کے نوٹی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :