فلسطینیوں کی دشمنی میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کو بھی نہیں بخشا، عمارتیں منہدم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈکوارٹرز میں واقع عمارتوں کو بلڈوز کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اسرائیلی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں فلسطینیوں پر مظالم کے بعد اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض میں تشویشناک اضافہ
یو این آر ڈبلیو اے نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسز نے شیخ جراح کے علاقے میں واقع اس کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بولا، عملے کے آلات ضبط کیے اور ملازمین کو زبردستی عمارت سے نکال دیا۔
ادارے کے مطابق یہ اقدام نہ صرف یو این آر ڈبلیو اے بلکہ اقوامِ متحدہ کے استحقاق اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق اسرائیلی فوجی دستہ بلڈوزرز کے ہمراہ علاقے میں داخل ہوا، اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئیں اور شدید سیکیورٹی کے بعد کمپاؤنڈ کے اندر موجود ڈھانچوں کو منہدم کرنا شروع کر دیا گیا۔
یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ فلپ لازارینی کے مطابق اسرائیلی ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومتی نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی فلسطینی مہاجرین کی شناخت کو مٹانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
فلپ لازارینی نے خبردار کیا کہ اگر آج یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی اور بین الاقوامی ادارہ یا سفارتی مشن بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسرائیل طویل عرصے سے یو این آر ڈبلیو اے پر فلسطینیوں کی حمایت اور حماس سے تعلقات کے الزامات عائد کرتا رہا ہے تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جنہیں ادارہ مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ انہدام ایک نئے قانون کے تحت کیا گیا ہے جس میں یو این آر ڈبلیو اے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس کارروائی کو تاریخی دن قرار دیا۔
مزید پڑھیے: ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی کمپنی پر سائبر اٹیک، مالی معاملات میں نقائص کا انکشاف
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف درجنوں بین الاقوامی اداروں پر پابندی عائد کی تھی جس پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔
اسرائیل نے 37 امدادی تنظیموں کے آپریٹنگ لائسنس منسوخ کیے جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور ناروے ریفیوجی کونسل بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر یو این آر ڈبلیو اے کے خلاف قوانین واپس نہ لیے گئے اور ضبط شدہ اثاثے بحال نہ کیے گئے تو معاملہ عالمی عدالتِ انصاف لے جایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں انسانی بحران سنگین، اسرائیل فوری طور پر امدادی رکاوٹیں ختم کرے: پاکستان سمیت 8 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ
اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یروشلم اسرائیل کے قبضے میں ہے جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیل نے اقوام متحدہ کی عمارتیں گرادیں اقوام متحدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل نے اقوام متحدہ کی عمارتیں گرادیں اقوام متحدہ یو این آر ڈبلیو اے اقوام متحدہ اسرائیل نے متحدہ کے کے مطابق
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔