سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ آئی جی سندھ کی کمیٹی میں غیر حاضری پر چیئرمین ممبران کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی جی سندھ کیوں نہیں آئے؟ اور نہ ہی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔
رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پولیس کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے قانون سازی کرنا وقت کی ضرورت ہے، آئی جی سندھ کیا گل پلازہ میں آگ بجھا رہے ہیں؟ یہ کمیٹی پولیس افسران کو ممبران کے سامنے جواب دہ بنانے کے لیے قانون سازی کرے، سندھ پولیس کو بلا کر پوچھا جائے کچے کے کتنے ڈاکو پکڑے؟ سندھ میں ایس ایچ او کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا اس وقت کہاں تھی پولیس؟ کیا پولیس صرف پارلیمنٹیرین کی تذلیل ہی کرتی رہے گی؟
اجلاس میں پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ میرے پیش کیے گئے بل کے حق میں این سی سی آئی اے بھی ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست پر قابل اعتراض مواد کو نہیں ہٹاتے تو کیا ہو گا؟
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعاون کے لیے درخواست کر چکے ہیں۔
انوشہ رحمان نے کہا کہ میں ساری زندگی یہی سنتی آئی ہوں، ایک طریقہ کار ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیسے قابل اعتراض مواد ہٹائے گا، پہلے سروس پرووائیڈرز کہتے تھے جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نہ مواد نہیں ہٹائیں گے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کون سی وزارت کو کرنا ہوتی ہے؟ انوشے رحمان نے کہا کہ یہ آئی ٹی منسٹری کا کام ہے، قانون تو آپ کے پاس ہے اس وقت۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہم آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کر رہے ہیں، دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز کو پابند کیا جائے، آپ بھی آئی ٹی وزیر رہی ہیں آپ کو پتا ہے یہ کون کرتا ہے۔
بعدازاں سینیٹ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔