اسلام آباد، پی ایس کیو سی میں مبینہ بھرتیوں کے اسکینڈل میں ڈائریکٹر فنانس 4 ماہ کیلیے معطل
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول (PSQCA) کے ڈائریکٹر فنانس سید علی محمد بخاری کو مبینہ بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر 120 روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔
سیکرٹری وزارت سائنس کی منظوری سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ اقدام فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات اور وفاقی محتسب کی 18 ستمبر 2024 کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا۔
معاملے کی مزید چھان بین کے لیے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں وزارت کے ڈپٹی سیکرٹری آرگنائزیشن نسیم احمد خان اور پی ایس کیو سی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن خوشحال میر شامل ہیں۔ کمیٹی ای اینڈ ڈی رولز 2020 کے تحت کارروائی کرے گی۔
ذرائع کے مطابق سید علی محمد بخاری نے 2023 میں گریڈ ایک سے چار تک تقریباً 50 بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیاں کیں، جن میں بلوچستان کے ریجنل آفس کی بھرتیاں وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کی گئی تھیں۔
سید محمد علی بخاری سے ڈائریکٹر فنانس کا اضافی چارج بھی فوری طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی PSQCA کے بھرتی اسکینڈلز پر سخت موقف کی واضح نشاندہی ہے اور وفاقی محکموں میں شفافیت کے مطالبات کو مزید تقویت دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔