پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ ہے، تاہم پی ٹی آئی کے متضاد مؤقف کے باعث اعتماد کا فقدان ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن انہیں نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی اس عمل میں سنجیدہ ہے، کیونکہ پارٹی مختلف مواقع پر مختلف زبانیں اور بیانیے اختیار کرتی ہے۔ ان کے مطابق کبھی پی ٹی آئی ایک مؤقف اپناتی ہے اور کبھی دوسرا، جس سے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس بات پر اعتماد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا مؤقف الگ ہے جبکہ اسمبلی میں بیٹھے نمائندے کچھ اور بات کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جو عناصر باہر بیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں، سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیانات دیے جا رہے ہیں اور یہ سب کچھ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت ہو رہا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق پی ٹی آئی جان بوجھ کر اپنے لیے گنجائش رکھنا چاہتی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مؤقف سے پیچھے ہٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کی نیت صاف ہو تو مذاکرات بھی ممکن ہیں اور ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال تاش کے کھیل کی مانند ہے جس میں سب مل کر کھیل رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پی ٹی آئی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔