نیتن نبین بی جے پی کے 12ویں صدر مقرر، مودی کے بھارت میں جمہوریت نہیں وفاداری ہی کامیابی کی کنجی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نیتن نبین کو اپنا 12واں قومی صدر مقرر کر دیا ہے۔ وہ جے پی نڈا کی جگہ لے رہے ہیں، جن کا دور ختم ہو چکا ہے۔
نیتن نبین پٹنہ بہار سے تعلق رکھتے ہیں اور بینک پور حلقہ سے 5 بار بہار اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ تقرری بغیر کسی مقابلے کے ہوئی اور انہیں پارٹی کی اعلیٰ قیادت، بشمول وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ 45 سال کی عمر میں وہ بی جے پی کے سب سے کم عمر صدر بن گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کو ضمانت ملنے پر احتجاج
ماہرین کے مطابق نیتن نبین کی تقرری محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ نریندر مودی کے بھارت کی سیاسی تصویر کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں جمہوری اقدار اور شفافیت کی بجائے وفاداری، خاندانی پس منظر اور جبری سیاست کو اہمیت دی جاتی ہے۔
نیتن نبین کو مودی سرکار کا چہیتا اور پارٹی کے طویل تعلقات رکھنے والا رہنما قرار دیا گیا ہے، اور ان کی صدارت کے لیے نام وزیراعظم مودی نے ذاتی طور پر تجویز کیا تھا۔ اس تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاداری اور اطاعت کو بھارتی سیاست میں حقیقی کارکردگی اور عوامی قیادت پر ترجیح دی جاتی ہے۔
مودی نے نیتن نبین کی صدارت کی تقریب میں ان کے سفر ’شونیا سے شکھر‘ (صفر سے عروج تک) قرار دیا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ بھارت میں جمہوری پسماندگی، آرٹیکل 370 کی غیر مشورتی منسوخی، کشمیری بحران اور بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کو چھپانے کی کوشش ہے۔
نیتن نبین بی جے پی کے نیپو کِڈ کی واضح مثال ہیں۔ وہ جن سنگھ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد پٹنہ ویسٹ کے طویل عرصہ تک بی جے پی ایم ایل اے رہ چکے تھے۔
والد کے انتقال کے بعد نیتن نبین نے سیاست میں قدم رکھا اور آرگنائزیشن مین کے طور پر تیزی سے ابھرے، جو مودی کے سخت مرکزی کنٹرول والے ڈھانچے میں وفاداری اور اطاعت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا سیاسی ریکارڈ بھی تنازعات سے خالی نہیں۔ نیتن نبین پر پانچ فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جو غیر قانونی اجتماعات، ہنگامہ آرائی اور عوامی نافرمانی سے متعلق ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی، مگر یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بی جے پی قیادت قانون سے بالا تر سمجھی جاتی ہے، جبکہ اختلاف کرنے والوں کو ریاستی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2017 میں کانگریس رہنما عبدالجلیل مستان کے خلاف سیڈیشن کا مقدمہ درج کرانا، آزادی اظہار کے بجائے نوآبادیاتی دور کے قانون کو سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کرنے کی مثال ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں مسلمانوں سے بدترین امتیازی سلوک پر مولانا ارشد مدنی کے انکشافات، بی جے پی تلملا اٹھی
مزید برآں، بہار کے وزیرِ تعمیراتِ سڑک کے طور پر 2024 میں تقریباً 15 پلوں کا منہدم ہونا شدید انتظامی ناکامی کی علامت تھی، جس سے عوامی زندگی متاثر ہوئی اور ریاست کو تقریباً 3 ہزار 953 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود نیتن نبین نے نہ استعفیٰ دیا، نہ شفاف تحقیقات کیں، بلکہ سیاسی ترقی حاصل کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن نبین کی ترقی محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ مودی کے بھارت میں حکمرانی کے ناکام نظام، اختلاف رائے پر پابندی اور وفاداری کو سب سے بڑا انعام دینے کے کلچر کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بی جے پی صدر مقرر مودی کا بھارت نیتن نبین وفاداری ہی کامیابی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بی جے پی مودی کا بھارت نیتن نبین وفاداری ہی کامیابی وی نیوز نیتن نبین بھارت میں بی جے پی مودی کے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔