اماراتی صدر کا دورہ بھارت، دونوں ممالک میں دفاعی، تجارتی معاہدے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک) اماراتی صدر کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات، تجارت اور ایل این جی کے معاہدے ہوگئے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آلنہیان مختصر دورے پر بھارت پہنچے جہاں ان کا استقبال وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا، بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نئی دلی میں بھارتی وزیراعظم مودی سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدے ہوئے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اگلے 6 سال میں دو طرفہ تجارت 200 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ یو اے ای سے 5 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی کی بھارت فراہمی کے 10 سالہ معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی صدر اور مودی نے دفاعی اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دونوں ممالک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔