گرین لینڈ تنازع پر ٹیرف کی دھمکی: یورپی ممالک نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے اور گرین لینڈ سے متعلق امریکی مؤقف کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اتحادی ممالک کے خلاف امریکی ٹیرف کے استعمال کو غلط قرار دیا، جبکہ برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے واضح کیا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے فیصلے سے جڑا ہے، کسی بیرونی دباؤ سے نہیں۔
ڈنمارک کے وزیراعظم نے کہا کہ یورپ صدر ٹرمپ کی دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا کہ صدر ٹرمپ دھمکیوں کے ذریعے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے، اور خبردار کیا کہ گرین لینڈ پر کسی بھی امریکی فوجی کارروائی سے نیٹو اتحاد کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںگرین لینڈ کا دفاع، برطانیہ اور نیدرلینڈ نے ایک ایک فوجی جبکہ ناروے، فن لینڈ اور سویڈن نے دو دو فوجی بھیج دیئے
گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی صورتحال
گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کی یورپی ممالک کو بھاری ٹیرف کی کھلی دھمکی
فرانس، جرمنی اور ناروے نے بھی امریکی صدر کی ٹیرف دھمکیوں کو بلیک میلنگ قرار دے دیا ہے۔ یورپی ردعمل کے لیے یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس جمعرات کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی مخالفت کرنے والے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ کے مطابق یکم فروری سے یورپی ممالک سے آنے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیکس اور یکم جون سے اسے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے۔
ان ممالک میں برطانیہ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ شامل ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر مکمل طور پر قائم ہیں اور گرین لینڈ کے معاملے پر مخالفت کی صورت میں ٹیرف نافذ کر دیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی ممالک امریکی صدر گرین لینڈ ٹرمپ کی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔