data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی جمود ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے اور وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مفاہمت کی پیشکش کو سنجیدگی سے قبول کرے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ جمہوری نظام ایوانِ قائد ایوان اور قائدِ حزب اختلاف دونوں کے بغیر مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔

انہوں نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان کسی قسم کا رابطہ موجود نہیں، جو جمہوری اقدار کے لیے تشویشناک امر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متعدد بار اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دی جا چکی ہے، تاہم تاحال مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی، اگر کسی مرحلے پر مشاورت میں کوئی کمی یا کوتاہی ہوئی ہے تو حکومت اس پر نظرثانی کے لیے تیار ہے اور تمام اتحادیوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کراچی کے حالیہ گل پلازہ سانحے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پورے ملک کے لیے باعثِ رنج ہے اور ہر پاکستانی اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے، حکومت ایسے واقعات کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔

ایم کیو ایم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ جن ملاقاتوں میں وہ خود شریک رہے، وہاں ایم کیو ایم نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے