ایف بی آر کے پرال سسٹم میں بغیر انٹریز سے 2 کروڑ سے زائد ریونیو کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پرال سسٹم میں بغیر انٹریز سے 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں شاہدہ اختر کی زیرصدارت ہوا۔ اس موقع پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ کسٹمز ڈیوٹی کی غلط شرحیں اور غیر منظور شدہ پی سی ٹی ہیڈنگز سسٹم میں شامل کی گئیں، چین سے درآمدی اشیا پر رعایتی ڈیوٹی کے غلط اطلاق سے خزانے کو نقصان ہوا۔
اسلام آباد کسٹمز کلیکٹوریٹ میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی کا انکشاف ہوا۔ آڈٹ حکام کے مطابق کسٹمز اور پی آر اے ایل عملہ غلط فیڈنگ کا مشترکہ طور پر ذمہ دار ہے۔
ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ساڑھے 5 ہزار اشیا کی تجارت ہو رہی ہے، پاکستان اور چین کی تجارت کا حجم 17 سے 18 ارب ڈالرز ہے۔ اتنے بڑے حجم کی انٹری میں چند کروڑ کی رقم کا ہندسہ لکھنے میں غلطی ہوئی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن بلال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ غلطی سے اس طرح کی کتنی غلطیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پہلی بار کسٹم سروس کا افسر براہ راست گرفتار ہوا ہے۔
بلال خان مندوخیل نے کہا یہاں کسی انکوائری کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ہمارے ہاں دو جملے کامن ہوچکے ہیں کہ بندہ ریٹائرڈ ہوگیا یا مرگیا۔
ایف بی آر حکام نے کہا کہ مجموعی طور پر 12.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایف بی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔