وکیل کی شناخت و پاسپورٹ استعمال کرکے جعلساز بھارت پہنچ گیا، سینیٹ کمیٹی اجلاس میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اس موقع پر کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ وکیل کی شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے جعل ساز بھارت پہنچ گیا۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعلسازی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کے کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کر کے جعلساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا۔ متاثرہ وکیل یہاں موجود ہے اس سے پوچھ لیں۔
متاثرہ وکیل نے کہا کہ ایک شخص میری شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے بھارت پہنچ گیا، اس شخص کی وجہ سے مجھے میرے والدین کو نادرا لے جا کر اپنے آپ کو پاکستانی شہری ثابت کرنا پڑا۔
ڈی جی پاسپورٹس نے کہا نادرا نے کئی ایسی جعل سازیوں کا معاملہ ہم سے شیئر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ڈیش بورڈ بنایا ہے جس سے جعلسازی سے سفر کرنے والوں کا تدارک ممکن ہو۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا نادرا سے شناخت کیسے چوری ہوگئی، ڈیٹا چوری کیسے ہوا؟
ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ شہری اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈ کے کوائف واٹس ایپ پر شیئر کرتے ہیں وہاں سے لیک ممکن ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا نادرا نے کئی افغان نیشنل اور دہشتگردوں کو بھی شناختی کارڈ جاری کر رکھا ہے۔
ڈی جی پاسپورٹ نے کہا یہ کیس 2023 میں ہوا لیکن اب نادرا اور پاسپورٹس میں جدت لے آئے ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ نادرا، بینک اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے، کسی بھی شہری کا ڈیٹا خریدنا ہو تو 500 روپے میں مل جاتا ہے۔ محکمے کے اندر سے کسی کے ملوث ہوئے بغیر اس لیول پر ڈیٹا چوری ممکن نہیں۔
ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ گارنٹی دیتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اب کسی کاجعلی پاسپورٹ نہیں بن سکتا۔
متاثرہ وکیل نے کہا میرے پاس دہری شہریت ہے، سفر کیلئے برطانوی پاسپورٹ کا استعمال کرتا ہوں، ایک سال سے ڈی جی پاسپورٹس سے ملنے کا انتظار کر رہا ہوں۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان سائبر سیکیورٹی سے متعلق اتھارٹی لا رہی ہے، افنان اللہ کو بھیجیں ہم ان کو نادرا پر بریف کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاسپورٹ استعمال کر بھارت پہنچ گیا ڈی جی پاسپورٹس ڈی جی پاسپورٹ نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔