سازگار انجینئرنگ کی نئی ٹینک 500 ہائبرڈ کی بکنگ 26 جنوری سے ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سازگار انجینئرنگ ورکس لیمٹیڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی CKD ماڈلز ٹینک 500 کی بکنگ 26 جنوری سے شروع ہوگی۔ یہ ماڈلز ہائبرڈ الیکٹرک (HEV) اور پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک (PHEV) دونوں ویرینٹس میں دستیاب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پالیسی، کیا اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں؟
کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو بھی اس کی اطلاع دی۔ اس میں کہا گیا کہ قیمتیں اور بکنگ کی تفصیلات آج شام الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔
پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک (PHEV) گاڑیاں ایک بڑے بیٹری پیک کے ساتھ پیٹرول انجن کا امتزاج پیش کرتی ہیں، جو محدود فاصلے کے لیے صرف بجلی پر چل سکتی ہیں، اور بیٹری ختم ہونے کے بعد یہ معمول کے ہائبرڈ کی طرح کام کرتی ہیں۔
کمپنی نے گزشتہ سال ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ TANK-500 اور CANNON کے نئے PHEV ماڈلز 31 مارچ 2026 تک متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ نیو انرجی وہیکل (NEV) سیکٹر میں اپنی موجودگی مضبوط کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: جیکو نے پاکستان میں سستی ترین ہائبرڈ گاڑی متعارف کروا دی
سازگار نے کہا ہے کہ آٹو سیکٹر میں بہتری کے آثار ہیں اور اس کے مطابق کمپنی جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیو انرجی گاڑیاں متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
HEV PHEV سازگار انجینئرنگ نئی ٹینک 500 ہائبرڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سازگار انجینئرنگ نئی ٹینک 500 ہائبرڈ کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔