سانحہ گل پلازا پر قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد میں تقسیم، ایم کیو ایم اور پی پی پی آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں بحث کے دوران حکمران اتحاد میں کھچاؤ سامنے آگیا، جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر بیٹھے، وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی اس معاملے پر حکومتی کارروائی پر تنقید کی۔
اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں ہوا اور ایم کیو ایم کے مطالبے پر ایجنڈا معطل کر کے کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ پر خصوصی بحث کی گئی، اس دوران سیاسی جماعتیں آمنے سامنے آگئیں اور ایک دوسرے پر ذمہ داریوں سے غفلت کے الزامات عائد کیے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ ایک قومی سانحہ ہے اور اسے باقاعدہ طور پر سانحہ قرار دیا جانا چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ واقعے کے 22 گھنٹے بعد پہنچے جبکہ جماعت اسلامی کا نمائندہ موقع پر آیا، فاروق ستار نے شہید فائر فائٹر فرقان کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 80 افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔
انہوں نے کراچی کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی 4 کروڑ آبادی کے لیے صرف 25 فعال فائر بریگیڈ اسٹیشنز ہیں اور زیادہ تر تجارتی مراکز میں ایمرجنسی آلات موجود نہیں۔ انہوں نے وفاق اور صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ عوامی حقوق کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے اور گل پلازہ جیسے واقعات کے پیشِ نظر شہر میں حفاظتی اقدامات فوراً کیے جائیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور شہر کو نیویارک یا لندن جیسے ماڈل شہری انتظامات کے حامل بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے ایوان میں زور دیا کہ 140 اے کا معاملہ عوامی حقوق کا ہے اور اسے سیاسی تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
سانحہ گل پلازہ اور کراچی میں دیگر حادثات کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی،وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا ناگزیر ہے تاکہ آتشزدگی، ڈمپر حادثات اور دیگر مسائل سے عوام کی حفاظت کی جا سکے اور شہریوں کو بااختیار بنایا جا سکے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کراچی اتنا بڑا شہر ہو چکا ہے کہ اس کا انتظام مشکل ہو گیا ہے اور 28ویں ترمیم میں مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات دینے کا نظام تجویز کیا گیا تھا، لیکن 18ویں ترمیم کے بعد اسے مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو مکمل مالی معاونت فراہم کی اور اپوزیشن لیڈر اور سابق اسپیکر کی تقاریر کا خلاصہ یہ ہے کہ سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
ایم کیو ایم کے رکن وسیم حسین نے عبدالقادر پٹیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی تعمیر کے وقت تمام ادارے اور سیاسی شخصیات واقف تھے اور آج الزامات لگانے کے بجائے اصل ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔ انہوں نے عبدالقادر پٹیل پر الطاف حسین کی حمایت کرنے کے الزام بھی عائد کیے اور کہا کہ داخلی سندھ کی سیٹوں کی فکر کرنا چاہیے۔
قبل ازیں پریس کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی نے صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صرف وزیر اعلیٰ کو فون کرنا کافی نہیں، وزیر اعظم کو براہِ راست کراچی کے نمائندوں سے بات کرنی چاہیے، یہ واقعہ 17 سالہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے اور حادثے میں 100 سے زائد افراد کی شہادت کا خدشہ ہے۔
قومی اسمبلی میں اس بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے بیانات سے واضح ہوا کہ کراچی کے انتظام اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور سانحہ گل پلازہ کے ذمہ داران کی شناخت اور آئندہ حفاظتی اقدامات پر سیاست جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے کہا کہ انہوں نے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
فوٹو: آئی ایس پی آرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔