فائل فوٹو

سانحہ گل پلازا میں لاپتہ افراد میں مزید 10 کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔

ریسکیو حکام نے اب تک 26 اموات کی تصدیق کی ہے جس میں سے 18 کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ لاپتہ افراد میں سے 8 وہ لاشیں ہوسکتی ہیں جن کی اب تک شناخت نہیں ہوئی۔

ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ رات میں 2 مزید لاشیں ملی ہیں، گل پلازا کے گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

گل پلازا آتشزدگی، متاثرین کا ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا مطالبہ

متاثرین کا کہنا ہے کہ اب تک پیاروں کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرین نے ریسکیو ورکرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔

انہوں نے کہا کہ لسٹ کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 81 ہے، کچھ نام دو دفعہ شامل ہیں اس لیے فی الحال 74 لاپتہ افراد کی تصدیق ہوگئی ہے۔

دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق سول اسپتال میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے سیمپل لیے جا چکے ہیں، 48 فیملیز نے اپنے ڈی این اے سیمپل بھی جمع کروا دیے۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی میں اگلے تین دنوں تک کراس میچنگ جاری رہے گی۔ 

علاوہ ازیں گل پلازہ میں آگ لگنے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج  ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: لاپتہ افراد گل پلازا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد