سانحہ گل پلازا: لاپتہ افراد میں مزید 10 کا اضافہ، تعداد 81 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سانحہ گل پلازا میں لاپتہ افراد میں مزید 10 کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔
ریسکیو حکام نے اب تک 26 اموات کی تصدیق کی ہے جس میں سے 18 کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ لاپتہ افراد میں سے 8 وہ لاشیں ہوسکتی ہیں جن کی اب تک شناخت نہیں ہوئی۔
ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ رات میں 2 مزید لاشیں ملی ہیں، گل پلازا کے گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل کو کلیئر کردیا گیا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اب تک پیاروں کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرین نے ریسکیو ورکرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔
انہوں نے کہا کہ لسٹ کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 81 ہے، کچھ نام دو دفعہ شامل ہیں اس لیے فی الحال 74 لاپتہ افراد کی تصدیق ہوگئی ہے۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق سول اسپتال میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے سیمپل لیے جا چکے ہیں، 48 فیملیز نے اپنے ڈی این اے سیمپل بھی جمع کروا دیے۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی میں اگلے تین دنوں تک کراس میچنگ جاری رہے گی۔
علاوہ ازیں گل پلازہ میں آگ لگنے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاپتہ افراد گل پلازا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔