کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی: 26 ہلاکتیں، 83 افراد لاپتہ، سرچ آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سٹی42: شہر قائد کے تجارتی مرکز پرنس روڈ پر واقع قدیم اور معروف گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے پوری عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 26 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 83 افراد لاپتہ ہیں اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سانحہ کی شدت اور عمارت کی صورتحال:
آگ پر 33 گھنٹے بعد قابو پایا گیا، مگر اس دوران عمارت کے کئی حصے گر گئے، پلرز ٹیکنے لگے اور مکمل عمارت گرنے کا خطرہ برقرار رہا۔ متاثرہ عمارت کے ایک اور حصے کے گرنے کے بعد ریسکیو حکام نے ملبہ ہٹانے کا کام تیز کر دیا ہے۔ آپریشن میں ایک ہزار سے زائد ریسکیو اہلکار مصروف ہیں اور ملبے سے مسخ شدہ لاشیں بھی ٹکڑوں میں برآمد ہو رہی ہیں، جبکہ کچھ لاشیں جھلسنے کے باعث شناخت کے قابل نہیں رہیں۔
مہنگی بجلی نے ٹیکسٹائل صنعت کا پہیہ جام کر دیا، 150 ملیں بند ہو چکی ہیں : چیئرمین اپٹما
سانحہ کے پس منظر اور پلازہ کی تعمیراتی خلاف ورزیاں:
گل پلازہ 1980 میں تعمیر ہوا اور 1998 میں مزید منزلیں شامل کی گئیں۔ 2003 میں بی سی اے نے عمارت کو ریگولرائز کر کے کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے مطابق 1021 دکانوں کی اجازت تھی، مگر بعد ازاں 179 غیر قانونی دکانیں تعمیر ہوئیں اور دکانوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر گئی۔ عمارت کے بیسمنٹ میں دکانیں اور چھت پر پارکنگ کا قیام بھی قواعد کی خلاف ورزی کی واضح مثال تھی۔
وزیراعظم شہبازشریف ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے ڈیووس روانہ
تقریباً 8000 اسکوائر گز پر قائم اس پلازے میں آرٹیفیشل پھول، سجاوٹی سامان اور گفٹ آئٹمز کی تھوک تجارت ہوتی تھی، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔
آگ کیسے بھڑکی اور ابتدائی نقصان:
واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب رات 10:36 بجے ایک آرٹیفیشل پھولوں کی دکان میں آگ لگنے سے شروع ہوا، جو تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ شدید دھوئیں اور آگ کی وجہ سے کئی افراد دم گھٹنے کے باعث زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے تین افراد دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
آل پنجاب یونین کونسل سیکرٹریز ایسوسی ایشن پنجاب کا کنونشن کا اعلان
ریسکیو آپریشن اور سرچ ٹیموں کی کارروائی:
آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں کے ایم سی، ریسکیو 1122 اور نیوی نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ تقریباً 200 سے زائد فائر فائٹرز اور 24 فائر ریسکیو گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں، جبکہ واٹر کارپوریشن نے 4 لاکھ 31 ہزار گیلن پانی فراہم کیا۔
ریسکیو ٹیموں نے ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس اور رینجرز بھی جائے وقوعہ پر موجود ہیں جبکہ شہریوں کو محفوظ فاصلے پر رکھنے کے لیے ریپڈ رسپانس فورس اور کراؤڈ مینجمنٹ فورس تعینات کی گئی ہے۔
کوئٹہ: نجی پلازہ میں آتشزدگی، درجنوں دکانیں جل کر خاکستر
داخلے کے راستے بند، نقشہ بندی اور امدادی مشکلات:
آپریشن کے باوجود پلازہ کے اندر جانے کا راستہ تلاش کرنا مشکل ثابت ہوا۔ ایس بی سی اے حکام پلازہ کا نقشہ لے کر پہنچ گئے اور ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ عمارت میں آٹھ داخلی راستے تھے، جن میں سے پانچ گزرگاہیں غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے بند ہو چکی تھیں۔ اس سے ریسکیو آپریشن میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
چھت سے گاڑیاں اتار لی گئیں:
پلازہ کی چھت پر موجود گاڑیوں کو نکالنے کے لیے کرین کا استعمال کیا گیا اور سات گاڑیاں اتار لی گئیں، جن میں سے دو گاڑیاں مالکان کو محفوظ حالت میں واپس کر دی گئیں۔ تاجر عامر نے بتایا کہ پلازہ کی چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک تھیں، اور ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد بھی تاحال لاپتہ ہیں۔
لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کرب:
لاپتہ افراد کے اہلخانہ مایوسی کے عالم میں پلازہ کے باہر بیٹھے ہیں۔ کئی افراد نے اپنے عزیزوں کے لیے دعا اور انتظار جاری رکھا ہوا ہے۔ لاپتہ افراد میں بنارس سے تعلق رکھنے والے فرحان، گارڈن کے 18 سالہ محمد شیزک، سعیدآباد کے دو بھائی کامران اور عدنان، کورنگی کے تنویر احمد اور دیگر شامل ہیں۔
اسی طرح دو بہنیں جو سپین اور آسٹریلیا سے اپنی شادی کی شاپنگ کے لیے گل پلازہ آئی تھیں، آگ میں لاپتہ ہو گئیں، جس سے ان کے اہلخانہ شدید غم میں مبتلا ہیں۔
سیفٹی انتظامات کی ناکامی اور سوالات:
ابتدائی رپورٹس کے مطابق گل پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات ناکافی تھے، ایمرجنسی راستے محدود تھے اور فائر الارم یا تو غیر مؤثر تھا یا موجود ہی نہیں تھا۔ اس سانحے نے شہر کی کمرشل عمارتوں میں حفاظتی نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا ہے اور سوالات چھوڑے ہیں کہ آیا عمارت بائی لاز اور سیفٹی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا تھا یا نہیں۔
کراچی میں شاپنگ مالز میں بار بار آگ لگنے کے واقعات:
یہ واقعہ کراچی کی مارکیٹوں اور شاپنگ سنٹرز میں آئے روز ہونے والے آتشزدگی کے واقعات کے تسلسل کا حصہ ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران کراچی کے مختلف شاپنگ مالز میں آگ لگنے کے متعدد واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں کلفٹن گلف سنٹر (2016)، ربی سنٹر (2016)، آشیانہ شاپنگ سنٹر (2016)، ہائپراسٹار مال (2016)، جامعہ کلاتھ مارکیٹ (2016)، مدینہ مال (2016)، آر جے شاپنگ مال (2023) اور ملینیم مال (2025) شامل ہیں۔
ختم شدہ صورتحال:
گل پلازہ کا سانحہ محض ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ شہر کی کمرشل عمارتوں میں حفاظتی معیار کی شدید کمی کا عکاس ہے، جسے فوری طور پر سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 لاپتہ افراد پلازہ میں گل پلازہ کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔