کراچی:

چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے وزارت تجارت کی جانب سے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ ڈیولیپمنٹ فنڈ سے چاول کے برآمد کنندگان کی معاونت کی جائے گی۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے استعمال سے ملک میں ایک تا ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے زرمبادلہ کی آمدنی ممکن ہوسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کے لحاظ سے پاکستانی چاول مہنگا ہونے سے مسائل کا سامان ہے، اس وقت بھارتی باسمتی چاول کی برآمدی قیمت 1 ہزار روپے جبکہ پاکستانی چاول کی قیمت 1250 روپے ہے جبکہ نان باسمتی کے چاول کے ریٹ میں 20 ڈالر کا فرق ہے۔

وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت اگر سپورٹ نہیں کرتی تو 3 ملین ٹن چاول ملک میں رہ جاتا جس کا سب سے زیادہ نقصان فارمر کو ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ فارمر اس ممکنہ نقصان کی وجہ سے اگلے سال چاول کے بجائے کسی اور فصل پر کام کرسکتا ہے۔

جام کمال خان نے کہا کہ چین، انڈونیشیا، فلپائن کے سفیروں سے بات ہوئی ہے، حکومت کوشش کررہی ہے ان مملک میں جی ٹو جی طرز پر چاول کو ایکسپورٹ کیا جائے، اگر چاول جی ٹو جی بنیاد پر ایکسپورٹ ہوگیا تو ای ڈی ایف فنڈ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ چاول کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟