متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔

یہ اعلان یو اے ای کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید النہیان نے کیا۔

مزید پڑھیں: سعودی کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس کی حمایت کردی، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم

شیخ عبد اللہ بن زاید نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور عالمی امن کے لیے ان کے عزم پر اعتماد کا اعادہ کیا۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے کہاکہ متحدہ عرب امارات بورڈ آف پیس کے مشن میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے ذریعے تمام فریقین کے لیے تعاون، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی کابینہ نے غزہ پٹی کے لیے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کی انتظامیہ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ بورڈ آف پیس کی حمایت کی ہے۔

کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں منعقد ہوا جس کی صدارت سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی

اجلاس میں وزرا نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد اور انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا اور فلسطینی اتھارٹی کے علاقے میں واپس آنے اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا، تاکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں، عرب امن منصوبے اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews غزہ بورڈ آف پیس متحدہ عرب امارات وی نیوز یو اے ای.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: غزہ بورڈ ا ف پیس متحدہ عرب امارات وی نیوز یو اے ای متحدہ عرب امارات بورڈ آف پیس ڈونلڈ ٹرمپ بن زاید کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت