متحدہ عرب امارات نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔
یہ اعلان یو اے ای کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید النہیان نے کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس کی حمایت کردی، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم
شیخ عبد اللہ بن زاید نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور عالمی امن کے لیے ان کے عزم پر اعتماد کا اعادہ کیا۔
شیخ عبداللہ بن زاید نے کہاکہ متحدہ عرب امارات بورڈ آف پیس کے مشن میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے ذریعے تمام فریقین کے لیے تعاون، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جائے گا۔
دوسری جانب سعودی کابینہ نے غزہ پٹی کے لیے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کی انتظامیہ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ بورڈ آف پیس کی حمایت کی ہے۔
کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں منعقد ہوا جس کی صدارت سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی
اجلاس میں وزرا نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد اور انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا اور فلسطینی اتھارٹی کے علاقے میں واپس آنے اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا، تاکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں، عرب امن منصوبے اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews غزہ بورڈ آف پیس متحدہ عرب امارات وی نیوز یو اے ای.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ ا ف پیس متحدہ عرب امارات وی نیوز یو اے ای متحدہ عرب امارات بورڈ آف پیس ڈونلڈ ٹرمپ بن زاید کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔