data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روس کے مشرقی خطے کامچاٹکا میں شدید برفانی طوفان کے نے پورے جزیرہ نما کو دو میٹر سے زائد برف کی تہہ کے نیچے دبا دیا ہے جبکہ برف کے ڈھیر چار میٹر تک بلند ہو چکے ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق موسمیاتی اداروں کے مطابق یہ برفباری گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے شدید ثابت ہوئی ہے اور بعض ماہرین نے اسے گزشتہ 60 سے 140 برس کے موسمی ریکارڈ میں ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا ہے، اس تاریخی برفانی طوفان نے مقامی انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کرتے ہوئے پورے علاقے کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

شدید برفباری کے باعث رہائشی علاقوں کو سنگین نقصان پہنچا ہے، چھتوں پر جمع بھاری برف اچانک بیٹھنے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، کئی علاقوں میں شہری اپنے گھروں میں محصور ہو گئے جبکہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں لوگ گھروں سے باہر نکلنے کے لیے برف میں سرنگیں کھودتے دکھائی دیتے ہیں۔

سڑکیں، گاڑیاں، پارکنگ ایریاز اور عمارتیں مکمل طور پر برف میں دب چکی ہیں اور بھاری مشینری کے باوجود صفائی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

طوفان کے باعث فضائی اور زمینی نقل و حمل مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے، متعدد پروازیں منسوخ، شاہراہیں بند اور عوامی ٹرانسپورٹ معطل ہے، سرکاری دفاتر نے کام آن لائن منتقل کر دیا ہے جبکہ تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

رسد کے نظام میں شدید خلل کے باعث خوراک، دودھ، انڈے، روٹی اور ادویات جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے، بعض علاقوں میں دکانیں خالی اور شہری طویل قطاروں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں جبکہ ایندھن کی فراہمی بھی دباؤ میں ہے۔

حکام کے مطابق یہ طوفان سمندرِ اوخوتسک میں پیدا ہونے والے کم دباؤ کے نظام کا نتیجہ تھا جس نے کئی روز تک وقفے کے بغیر برفباری کی۔

میونسپل اداروں، ریسکیو ٹیموں، برف ہٹانے والے عملے اور فوجی انجینئرنگ یونٹس کو سڑکوں کی بحالی، ہنگامی امداد اور شہریوں کے انخلا کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے، انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں تک محدود رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ہنگامی ضروریات کا ذخیرہ رکھیں۔

اگرچہ طوفان کا فعال مرحلہ ختم ہو چکا ہے تاہم شدید سردی اور بے تحاشا برف کی موجودگی نے بحالی کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی دن یا ممکنہ طور پر ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، یہ برفانی طوفان کامچاٹکا کی موسمی تاریخ میں ایک سنگِ میل بن چکا ہے، جس نے نہ صرف ریکارڈ توڑے بلکہ ہنگامی انتظامات اور شہری نظام کی صلاحیتوں کو بھی سخت آزمائش میں ڈال دیا۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برفانی طوفان کے مطابق دیا ہے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق