امریکی صدر عمران خان کو رہا کروانا چاہتے تھے، شیر افضل مروت کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو رہا کروانا چاہتے تھے۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اپنے ایک انٹرویو میں دعوی کیا کہ امریکی صدر نے عمران خان کی رہائی کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابط بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر پس پردہ پیشرفت جاری تھی۔ تاہم اسی دوران قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے بعض اراکین کی جانب سے امریکا اور صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ جس کے باعث یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ یہ معلومات انہیں انتہائی باوثوق ذرائع سے موصول ہوئی ہیں۔ اور پارلیمنٹ میں سامنے آنے والے احتجاجی رویے نے سفارتی کوششوں کو متاثر کیا۔دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر امریکا سمیت کوئی بھی ملک کھل کر عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم دکھائی نہیں دیتا۔ حالانکہ ان کی گرفتاری کو ڈھائی سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اس وقت پاکستان میں جاری سیاسی صورتحال کے بجائے اپنے معاشی اور تجارتی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی فضائی حدود24فروری تک بھارتی طیاروں کیلئے بدستور بند رکھنے کا فیصلہ پاکستانی فضائی حدود24فروری تک بھارتی طیاروں کیلئے بدستور بند رکھنے کا فیصلہ پیپلز پارٹی اسلام آباد سٹی اور ضلع کی تنظیم تاحال قائم ہے،ہمایوں خان پارلیمنٹ ہاوس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری اماراتی صدر نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کی ملاقات، کیس مینجمنٹ بہتر بنانے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کا دن، علیمہ خان کی خواتین اور کارکنان کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکے پر.

.. TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شیر افضل مروت امریکی صدر

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی