پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے یا نہیں؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی مخالفین کے ساتھ دشمنی نہیں رکھتی اور بہتر ہوگا کہ صلح صفائی قائم کی جائے، تاہم اگر حکومت ایک طرف ہاتھ ملائے اور دوسری طرف مکا مارے تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، لیکن اگر ہوا تو اسے چھپایا نہیں جائے گا۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے، تاہم چیف جسٹس مصروف ہیں اور وہ ملاقات کے لیے 3 گھنٹے تک انتظار کرتے رہے۔
مزید پڑھیں: دھرنوں سے بلیک میل نہیں ہونگے، پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے قانونی راستہ اپنائے،عطا تارڑ
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، ملاقات کے لیے ان کی تین بہنیں منگل کو اڈیالہ جیل آتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں حکومت پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت پر بلا جواز الزامات نہیں لگنے چاہییں اور اس حوالے سے جن لوگوں نے الزام لگایا ہے وہ ثبوت بھی پیش کریں۔
مقدمات کے سلسلے میں بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ 17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا سنائی گئی تھی، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اپیل نہیں لگائی گئی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ضمانت بھی نہیں ملی۔
انہوں نے عدلیہ سے اپیل کی کہ لوگوں کو انصاف ان کے دروازے پر فراہم کیا جائے تاکہ لوگ قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور نہ ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ بشریٰ بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے، پھر بھی ان کو سزا دی گئی، عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات میں انصاف کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہاکہ فی الحال اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، لیکن اگر بیک ڈور رابطہ ہوا تو اسے چھپایا نہیں جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی پر پارٹی کے اہم ذمہ دار کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ پاکستان، افواج پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ملکی مفاد میں بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈرز کے نوٹیفکیشنز کو انہوں نے مثبت اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ جمہوریت اور ایوان کے لیے مفید ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ایک ہاتھ سے ہاتھ ملائے اور دوسرے سے مکا مارے تو حالات خراب ہوں گے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ دونوں ہاتھ ملائے تاکہ مسئلہ حل ہو سکے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پارٹی علامتی دن کے طور پر منائے گی، اس دن پارٹی احتجاج ریکارڈ کرائے گی اور یہ پرامن ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی رابطہ عمران خان رہائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی عمران خان رہائی وی نیوز بیرسٹر گوہر نے پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔