عرب امارات نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
خبررساں ایجنسی کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی "بورڈ آف پیس" میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ اماراتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکا کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چارٹر کے مطابق، رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہو گی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہو گی۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا۔ خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات خطے میں امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور ان چند عرب ممالک میں شامل ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس میں شمولیت عرب امارات کے مطابق بن زاید کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز