اماراتی صدر نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز

ابو ظہبی (آئی پی ایس )متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ امراتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکا کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔

خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چارٹر کے مطابق، رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔خبررساں ایجنسی کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرہ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا۔ خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔متحدہ عرب امارات خطے میں امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور ان چند عرب ممالک میں شامل ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کی ملاقات، کیس مینجمنٹ بہتر بنانے پر اتفاق چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کی ملاقات، کیس مینجمنٹ بہتر بنانے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کا دن، علیمہ خان کی خواتین اور کارکنان کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکے پر.

.. بانی اور بشری بی بی کی قید تنہائی ختم کرنے کیلئے بیرسٹر علی ظفر سمیت 14 پی ٹی آئی سینیٹرز نے اسلام آباد ہائیکورٹ... وزیراعظم نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے امور اور استعداد کا جائزہ لینے کیلئے راناثنااللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی بلوچستان کابینہ کا تاریخ ساز فیصلہ، مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا، نئے رولز کی منظوری جماعت اسلامی کا وزیراعلی سندھ سے استعفے کا مطالبہ، ملین مارچ کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: خبررساں ایجنسی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل