دریائے کابل میں 22 تا 23 جنوری فلیش فلڈ وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وفاقی فلڈ کمیشن نے بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کے پیش نظر 22 اور 23 جنوری کے دوران دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کی تکنیکی معاونت درکار ہے، وزیر خزانہ
منگل کو جاری کردہ الرٹ میں فلڈ کمیشن نے بتایا کہ 21 جنوری کی شام سے 24 جنوری 2026 تک ایک طاقتور مغربی ہواؤں کا سلسلہ (ویسٹرلی ویو) ملک کے بالائی حصوں کو متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں 22 سے 23 جنوری کے دوران دریائے کابل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
الرٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں بشمول سوات، چترال، بونیر، شانگلہ، اپر و لوئر دیر، ملاکنڈ، باجوڑ، مردان، صوابی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، ہری پور، کولائی پالس اور کوہستان سمیت آزاد کشمیر کے مختلف حصوں میں درمیانی سے بعض مقامات پر شدید بارش اور برفباری کے باعث فلیش فلڈ کا خطرہ رد نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیے: وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری
صورتحال کے پیش نظر وفاقی فلڈ کمیشن نے تمام متعلقہ اداروں، بالخصوص خیبر پختونخوا پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور بروقت احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان، سرکاری و نجی املاک اور آبپاشی و سیلابی تحفظ کے انفراسٹرکچر کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے مطابق فلیش فلڈ عموماً شدید بارش کے چھ گھنٹوں کے اندر اور بعض اوقات 3 گھنٹوں کے اندر شروع ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: شدید بارشیں اور سیلاب: کلاؤڈ برسٹ، موسمیاتی تبدیلی یا ناقص منصوبہ بندی؟
ادارے کے مطابق فلیش فلڈ کی خصوصیت تیز رفتار پانی کے ریلوں، اچانک بند یا پشتے کے ٹوٹنے، یا پانی کے اچانک اخراج سے ہوتی ہے جو ندی نالوں، شہری سڑکوں اور پہاڑی علاقوں میں تباہی مچا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دریائے کابل دریائے کابل میں تغیانی فلیش فلڈ موسم کا حال موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دریائے کابل دریائے کابل میں تغیانی فلیش فلڈ موسم کا حال موسمیاتی تبدیلی دریائے کابل
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔