Jasarat News:
2026-07-24@02:08:14 GMT

کراچی میں گیس بحران گھروں کے چولہے ٹھنڈے

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی، جو کبھی روشنیوں، صنعتوں اور مواقع کا شہر کہلاتا تھا، آج بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ اس شہر میں زندگی کا آغاز کسی امید کے ساتھ نہیں بلکہ ایک مسئلے کے ساتھ ہوتا ہے، اور دن کا اختتام کسی نئے بحران پر۔ پانی کی قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹرانسپورٹ کی بدنظمی اور اب گیس کا شدید بحران یہ سب مل کر شہری زندگی کو ایک مستقل اذیت میں بدل چکے ہیں۔ گیس، جو جدید شہری زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے، کراچی کے لاکھوں گھروں میں محض ایک خواب بن چکی ہے، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش نے گھریلو خواتین، مزدور طبقے، طلبہ اور بزرگوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ شہریوں کو کبھی کم پریشر کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی مکمل بندش کا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے وضاحتیں، بیانات اور وعدے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایک طرف صنعتی اور کمرشل صارفین کو ترجیح دی جاتی ہے، تو دوسری جانب عام شہری اپنی بنیادی ضرورت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال نے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کر دیا ہے، جہاں سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کا مستقل حل کب اور کیسے ممکن ہوگا۔ کراچی کے شہریوں کی زندگی ایک طویل عرصے سے مسلسل مسائل کی زد میں ہے، جہاں صبح کا آغاز کسی نئے بحران کے ساتھ ہوتا ہے اور رات کسی اور اذیت پر ختم ہوتی ہے۔ یہ شہر آج بنیادی سہولتوں کے شدید فقدان کا شکار ہے۔ پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صحت کے مسائل اپنی جگہ، مگر گیس کا بحران ایک ایسی آزمائش بن چکا ہے جس نے گھریلو زندگی، معاشی سرگرمیوں اور سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس کی مکمل بندش اور کم پریشر نے شہریوں کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، کراچی میں گیس کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے مختلف صورتوں میں موجود ہے، مگر حالیہ صورتحال نے اس بحران کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ شہر کے بیش تر علاقوں میں یا تو گیس مکمل طور پر بند ہے یا اتنا کم پریشر ہے کہ کھانا پکانا ممکن نہیں رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں گیس مکمل بند ہے، عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صبح کے اوقات میں ناشتے کے لیے گیس دستیاب نہیں ہوتی، دوپہر میں کھانا پکانے کے وقت پریشر ختم ہو جاتا ہے اور رات کو چولہے مکمل طور پر ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس دستیاب نہیں اور دوسری طرف بھاری بلز نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس صوبے کے عوام کے لیے مزید تکلیف دہ ہے جو ملک کی گیس پیداوار کا 70 فی صد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر خود محروم ہے۔

گیس بحران کے براہ راست اثرات گھریلو زندگی پر سب سے زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ خواتین کے لیے کھانا پکانا ایک مستقل ذہنی دباؤ بن چکا ہے۔ شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے بجٹ پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ ایل پی جی کے بڑھتے استعمال نے نہ صرف گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے بلکہ حفاظتی خدشات بھی پیدا کیے ہیں، کیونکہ غیر معیاری سلنڈرز اور ناقص تنصیبات حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس بحران کے اثرات گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ گیس لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ چھوٹے کارخانے، بیکریاں، دودھ فروش، مٹھائی اور کنفیکشنری بنانے والے، پکوان ہاؤسز اور ہوٹل مالکان سبھی اس بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ شہریوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے شہر میں ایک مصنوعی بحران پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو قدرتی گیس کے بجائے ایل پی جی کے استعمال کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اگرچہ کمپنی کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس بیان کی تردید کرتے ہیں۔ گیس کی غیر مساوی تقسیم، پرانے اور نئے صارفین کے درمیان فرق، اور بغیر کسی واضح شیڈول کے بندش نے اعتماد کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔

اس سنگین مسئلے پر سیاسی جماعتوں اور معزز شہریوں کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔ یہ صورتحال محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ سماجی المیہ بن چکی ہے۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی کتابوں میں پاکستان کو قدرتی وسائل، خصوصاً گیس اور معدنی ذخائر سے مالا مال ملک قرار دیا جاتا تھا، جہاں بڑے بڑے گیس فیلڈز، وافر قدرتی دولت اور توانائی کے وسیع وسائل کا ذکر فخر کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ انہی کتابوں میں یہ بھی پڑھایا جاتا تھا کہ یہ وسائل قومی ترقی، عوامی خوشحالی اور خود کفالت کی بنیاد ہیں، مگر آج عملی صورتِ حال اس تعلیمی بیانیے کی مکمل نفی کرتی نظر آتی ہے۔ وہ ملک جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے پاس گیس کے اتنے ذخائر ہیں کہ دہائیوں تک عوام کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں، آج اسی ملک کے سب سے بڑے شہر کے باسی ایک وقت کی روٹی پکانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ تضاد صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک فکری، تعلیمی اور ریاستی شکست کی علامت ہے، جہاں کتابوں میں پڑھایا جانے والا خواب زمینی حقیقت بننے کے بجائے ایک تلخ سوال بن چکا ہے کہ آخر وسائل ہونے کے باوجود عوام بنیادی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں۔

کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں اور حیدرآباد میں بھی گیس لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ یہ بحران اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض سپلائی کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی، ترجیحات اور شفافیت کا ہے۔ جب ایک طرف عوام شدید مشکلات کا شکار ہوں اور دوسری طرف نئے کنکشن دیے جا رہے ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ پالیسی سازی کس کے مفاد میں ہو رہی ہے۔ عوام کا اعتماد اس وقت بحال ہو سکتا ہے جب انہیں واضح، منصفانہ اور قابل ِ عمل حل نظر آئے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ سب سے پہلے گیس کی تقسیم میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جائے، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بجائے واضح شیڈول جاری کیا جائے تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ ایس ایس جی سی کے نظام کی جامع آڈٹ اور احتسابی عمل شروع کیا جائے تاکہ بدانتظامی اور ممکنہ کرپشن کا سدباب ہو سکے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی یہ پاکستان کی بڑی گیس فراہمی کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں گیس کی سپلائی کرتی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں اور معیار کو ریگولیٹ کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور سستا متبادل میسر آ سکے۔ صنعتی شعبے کے لیے علٰیحدہ اور یقینی سپلائی کا انتظام کیا جائے تاکہ معیشت کا پہیہ جام نہ ہو۔ سب سے بڑھ کر، توانائی کے طویل المدتی منصوبوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے، مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گیس کی پیداوار اور ترسیل کو بہتر بنایا جائے، تاکہ کراچی کے شہری ایک بار پھر اپنے گھروں میں جلتے چولہوں کے ساتھ باعزت زندگی گزار سکیں۔

پروفیسر شاداب احمد صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا جائے تاکہ علاقوں میں نہیں بلکہ کر دیا ہے ایل پی جی کراچی کے جاتا تھا کے ساتھ میں گیس ہے کہ ا کیا جا کے لیے گیس کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف