کراچی میں گیس بحران گھروں کے چولہے ٹھنڈے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی، جو کبھی روشنیوں، صنعتوں اور مواقع کا شہر کہلاتا تھا، آج بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ اس شہر میں زندگی کا آغاز کسی امید کے ساتھ نہیں بلکہ ایک مسئلے کے ساتھ ہوتا ہے، اور دن کا اختتام کسی نئے بحران پر۔ پانی کی قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹرانسپورٹ کی بدنظمی اور اب گیس کا شدید بحران یہ سب مل کر شہری زندگی کو ایک مستقل اذیت میں بدل چکے ہیں۔ گیس، جو جدید شہری زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے، کراچی کے لاکھوں گھروں میں محض ایک خواب بن چکی ہے، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش نے گھریلو خواتین، مزدور طبقے، طلبہ اور بزرگوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ شہریوں کو کبھی کم پریشر کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی مکمل بندش کا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے وضاحتیں، بیانات اور وعدے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایک طرف صنعتی اور کمرشل صارفین کو ترجیح دی جاتی ہے، تو دوسری جانب عام شہری اپنی بنیادی ضرورت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال نے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کر دیا ہے، جہاں سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کا مستقل حل کب اور کیسے ممکن ہوگا۔ کراچی کے شہریوں کی زندگی ایک طویل عرصے سے مسلسل مسائل کی زد میں ہے، جہاں صبح کا آغاز کسی نئے بحران کے ساتھ ہوتا ہے اور رات کسی اور اذیت پر ختم ہوتی ہے۔ یہ شہر آج بنیادی سہولتوں کے شدید فقدان کا شکار ہے۔ پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صحت کے مسائل اپنی جگہ، مگر گیس کا بحران ایک ایسی آزمائش بن چکا ہے جس نے گھریلو زندگی، معاشی سرگرمیوں اور سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس کی مکمل بندش اور کم پریشر نے شہریوں کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، کراچی میں گیس کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے مختلف صورتوں میں موجود ہے، مگر حالیہ صورتحال نے اس بحران کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ شہر کے بیش تر علاقوں میں یا تو گیس مکمل طور پر بند ہے یا اتنا کم پریشر ہے کہ کھانا پکانا ممکن نہیں رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں گیس مکمل بند ہے، عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صبح کے اوقات میں ناشتے کے لیے گیس دستیاب نہیں ہوتی، دوپہر میں کھانا پکانے کے وقت پریشر ختم ہو جاتا ہے اور رات کو چولہے مکمل طور پر ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس دستیاب نہیں اور دوسری طرف بھاری بلز نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس صوبے کے عوام کے لیے مزید تکلیف دہ ہے جو ملک کی گیس پیداوار کا 70 فی صد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر خود محروم ہے۔
گیس بحران کے براہ راست اثرات گھریلو زندگی پر سب سے زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ خواتین کے لیے کھانا پکانا ایک مستقل ذہنی دباؤ بن چکا ہے۔ شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے بجٹ پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ ایل پی جی کے بڑھتے استعمال نے نہ صرف گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے بلکہ حفاظتی خدشات بھی پیدا کیے ہیں، کیونکہ غیر معیاری سلنڈرز اور ناقص تنصیبات حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس بحران کے اثرات گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ گیس لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ چھوٹے کارخانے، بیکریاں، دودھ فروش، مٹھائی اور کنفیکشنری بنانے والے، پکوان ہاؤسز اور ہوٹل مالکان سبھی اس بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ شہریوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے شہر میں ایک مصنوعی بحران پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو قدرتی گیس کے بجائے ایل پی جی کے استعمال کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اگرچہ کمپنی کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس بیان کی تردید کرتے ہیں۔ گیس کی غیر مساوی تقسیم، پرانے اور نئے صارفین کے درمیان فرق، اور بغیر کسی واضح شیڈول کے بندش نے اعتماد کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔
اس سنگین مسئلے پر سیاسی جماعتوں اور معزز شہریوں کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔ یہ صورتحال محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ سماجی المیہ بن چکی ہے۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی کتابوں میں پاکستان کو قدرتی وسائل، خصوصاً گیس اور معدنی ذخائر سے مالا مال ملک قرار دیا جاتا تھا، جہاں بڑے بڑے گیس فیلڈز، وافر قدرتی دولت اور توانائی کے وسیع وسائل کا ذکر فخر کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ انہی کتابوں میں یہ بھی پڑھایا جاتا تھا کہ یہ وسائل قومی ترقی، عوامی خوشحالی اور خود کفالت کی بنیاد ہیں، مگر آج عملی صورتِ حال اس تعلیمی بیانیے کی مکمل نفی کرتی نظر آتی ہے۔ وہ ملک جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے پاس گیس کے اتنے ذخائر ہیں کہ دہائیوں تک عوام کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں، آج اسی ملک کے سب سے بڑے شہر کے باسی ایک وقت کی روٹی پکانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ تضاد صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک فکری، تعلیمی اور ریاستی شکست کی علامت ہے، جہاں کتابوں میں پڑھایا جانے والا خواب زمینی حقیقت بننے کے بجائے ایک تلخ سوال بن چکا ہے کہ آخر وسائل ہونے کے باوجود عوام بنیادی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں۔
کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں اور حیدرآباد میں بھی گیس لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ یہ بحران اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض سپلائی کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی، ترجیحات اور شفافیت کا ہے۔ جب ایک طرف عوام شدید مشکلات کا شکار ہوں اور دوسری طرف نئے کنکشن دیے جا رہے ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ پالیسی سازی کس کے مفاد میں ہو رہی ہے۔ عوام کا اعتماد اس وقت بحال ہو سکتا ہے جب انہیں واضح، منصفانہ اور قابل ِ عمل حل نظر آئے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ سب سے پہلے گیس کی تقسیم میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جائے، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بجائے واضح شیڈول جاری کیا جائے تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ ایس ایس جی سی کے نظام کی جامع آڈٹ اور احتسابی عمل شروع کیا جائے تاکہ بدانتظامی اور ممکنہ کرپشن کا سدباب ہو سکے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی یہ پاکستان کی بڑی گیس فراہمی کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں گیس کی سپلائی کرتی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں اور معیار کو ریگولیٹ کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور سستا متبادل میسر آ سکے۔ صنعتی شعبے کے لیے علٰیحدہ اور یقینی سپلائی کا انتظام کیا جائے تاکہ معیشت کا پہیہ جام نہ ہو۔ سب سے بڑھ کر، توانائی کے طویل المدتی منصوبوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے، مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گیس کی پیداوار اور ترسیل کو بہتر بنایا جائے، تاکہ کراچی کے شہری ایک بار پھر اپنے گھروں میں جلتے چولہوں کے ساتھ باعزت زندگی گزار سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جائے تاکہ علاقوں میں نہیں بلکہ کر دیا ہے ایل پی جی کراچی کے جاتا تھا کے ساتھ میں گیس ہے کہ ا کیا جا کے لیے گیس کی
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔