data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-01-16
نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سوڈان کی صورتحال کے باعث رواں برس 80 لاکھ سے زیادہ افراد کو خوراک کی ضرورت ہوگی۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے سوڈان میں غذائی خدمات میں پیدا ہونے والے بڑے بحران کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران جنگ، نقل مکانی اور صحت و خوراک کی خدمات میں کمی کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔زمینی حالات 2026ء کے دوران صورتحال مزید بگڑنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (او سی ایچ اے )نے کہا ہے کہ 2026 ء میں 84 لاکھ سے زائد افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہوگی جن میں 5سال سے کم عمر کے تقریباً 50 لاکھ بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 34 لاکھ سے زائد خواتین صحت کی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہوں گی۔ او سی ایچ اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سوڈان بھر میں 42 لاکھ بچے اور خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گی جن میں 5سال سے کم عمر کے 8 لاکھ 24 ہزار سے زیادہ بچے انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ امدادی کاموں کی نگرانی اور تشخیص کے معیاری طریقہ کار کے تحت کیے گئے 61 میں سے 31 سروے کے نتائج رواں سال کے دوران شدید غذائی قلت کے پھیلاؤ کی تصدیق کر رہے ہیں۔ عالمی ادارئہ صحت نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک سروے نے صورتحال کے قحط کے دہانے پر پہنچنے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اس سروے کے مطابق کل آبادی کا تقریباً 34.

2 فیصد حصہ قحط کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ سوڈان میں کردفان اور دارفور کے علاقوں میں فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے رواں ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ سڑکوں کی بندش اور رکاوٹوں کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک، طبی امداد اور منڈیوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے جن میں جنوبی کردفان کا دارالحکومت کادوقلی اور الدلنج شہر شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت مندوں کی تعداد موجودہ تخمینوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر نئے بے گھر ہونے والوں اور محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے سوڈان میں دونوں فریقوں کی جانب سے معاشرے کی عسکریت پسندی میں اضافے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کردفان کے شہروں میں بھی الفاشر جیسا منظرنامہ دہرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پورٹ سوڈان میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جدید فوجی سازوسامان، خاص طور پر ڈرونز کے پھیلاؤ نے دونوں فریقین کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھا دیا ہے۔ اس صورت حال میں دشمنی طویل ہو گئی ہے اور شہریوں کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو۔

انٹرنیشنل ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غذائی قلت کا اقوام متحدہ سوڈان میں افراد کو

پڑھیں:

میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش

سٹی 42: میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش ہورہی ہے ۔

میرپور آزاد کشمیر و گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہورہی ہے ۔ بارش کے باعث شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا، موسم خوشگوار ہو گیا۔درجہ حرارت میں نمایاں کمی، شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا

منگلا، چیچیاں، جاتلاں، اسلام گڑھ، چکسواری اور ڈڈیال میں بھی بارش  ہے ۔ تیز ہواؤں کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری ہے ۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

مری میں  کالی گھٹائیں برس پڑیں، بارش سے موسم مزید خوشگوار ہو گیا۔بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے مری کے حسن کو چار چاند لگا دیئے۔

 گرم علاقوں سے آئے سیاح خوشگوار موسم سے بھرپور لطف اندوز ہونے لگے۔ بارش کے بعد سیاحتی مقامات پر رونقیں بڑھ گئیں۔

 کھاریاں میں گرج چمک اور تیز ہوا کیساتھ بارش ہے ۔ بجلی بند موسم خوشگوار ہو گیا۔

بارش سے گرمی کی  شدت کم ہو گئی۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟