وڈیرہ شاہی کی قیادت میں قومی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی،عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے سربراہ، سول بخش پلیجو کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر عوامی تحریک ضلع ٹھٹہ کی جانب سے ان کی آخری آرام گاہ پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، سلامی پیش کی گئی اور قومی و انقلابی گیتوں کے ذریعے ثقافتی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب میں عوامی تحریک کے مرکزی رہنما عبدالقادر رانٹو، مرکزی رہنما نور نبی پلیجو، شاہ محمد چانگ، بلاول لاشاری، ریاض عباسی، ایوب انڑ، غلام علی زئور، دریا خان زئور، تحمینہ لاشاری، سائرا رزاق سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ رسول بخش پلیجو نے پوری زندگی سندھ کے حقوق، قومی خودمختاری، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور مظلوم طبقات کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول بخش پلیجو سندھ کی تاریخ کا ہمیشہ زندہ و تابندہ روشن باب ہیں، وہ ایک ہمیشہ چمکنے والا ستارہ ہیں۔ سندھ کے ہاریوں، محنت کشوں اور سندھیانیوں کی قیادت میں قومی اور انقلابی جدوجہد کا راستہ رسول بخش پلیجو نے دکھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وڈیرا شاہی اور بیوروکریسی کی قیادت میں کوئی بھی قومی جدوجہد کامیاب نہیں ہو سکتی، قومی اور طبقاتی جدوجہد کا اصل محرک محنت کش طبقہ ہے۔ سندھ کی بیٹیاں، ہاری، مزدور اور محنت کش ہی قومی اور طبقاتی جدوجہد کی قیادت کریں گے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں غیر مقامی آبادکاری کے خلاف سب سے پہلی آواز رسول بخش پلیجو نے بلند کی۔ سندھ کے مخصوص حالات کے مطابق جدوجہد کے نئے رنگ اور انداز بھی رسول بخش پلیجو نے متعارف کرائے۔ انہوں نے بین الاقوامی محنت کش راج کے لیے جدوجہد کے ساتھ ساتھ سندھ کی قومی شناخت اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی۔ رسول بخش پلیجو ایک عالمی انقلابی رہنما اور مدبر تھے، جنہوں نے عالمی کمیونسٹ تحریک کے بحرانوں، مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی مضامین تحریر کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رسول بخش پلیجو نے عوامی تحریک کی قیادت
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔