حکومت صنعتکاروں کا اعتماد بحال کرے‘ حنیف گوہر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سابق سینئر نائب صدر، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے سابق چیئرمین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) سدرن زون کے سیکرٹری جنرل حنیف گوہر نے ملکی معیشت کے حوالے سے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایم تنویر کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے صنعتکاروں کا اعتماد بحال کیا جائے۔حنیف گوہر نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو وقتی سہاروں کے بجائے مستقل بنیادوں پر مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے، محض نمائشی اقدام سے ترقی کا تاثر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چوکوں اور چوراہوں پر رنگ برنگی روشنیاں لگانا ترقی کی علامت نہیں بلکہ حقیقی ترقی صنعتوں کی بقا، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور برآمدات کے فروغ سے مشروط ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس وقت ملکی معیشت عملی طور پر وینٹی لیٹر پر ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے فوری طور پر وینٹی لیٹر سے نکال کر پائیدار اور حقیقی ترقی کی راہ پر ڈالا جائے۔ جب تک صنعتی شعبے کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک معاشی استحکام محض ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں صنعتوں کو سب سے بڑا مسئلہ مہنگی بجلی اور گیس کی صورت میں درپیش ہے، جس کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی صنعتیں عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔حنیف گوہر نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، ٹیکس نظام میں آسانی اور کاروباری ماحول کو دوستانہ بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک صنعت کار کو سہولتیں فراہم نہیں کی جاتیں، اس وقت تک نہ نئی سرمایہ کاری آئے گی اور نہ ہی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔سابق نائب صدر ایف پی پی سی آئی کا کہنا تھا کہ برآمدات کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں برآمدکنندگان کو مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعتی و برآمدی شعبے کے ساتھ مشاورت کے ذریعے عملی اور دیرپا پالیسیاں تشکیل دے۔آخر میں حنیف گوہر نے کہا کہ اگر صنعتیں چلیں گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکس ریونیو بڑھے گا اور ملکی معیشت حقیقی معنوں میں ترقی کرے گی، بصورت دیگر نمائشی اقدام سے مسائل مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حنیف گوہر نے ملکی معیشت کی معیشت انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز