131 ارب کی کراس سبسڈی معاشی خودکشی کے مترادف ہے، کاٹی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت اور ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے حکومت کی جانب سے انڈسٹری پر عائد کی جانے والی کراس سبسڈی کو ملکی صنعت کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف صنعتیں بند ہو رہی ہیں بلکہ بے روزگاری میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست نقصان اسی غریب طبقے کو پہنچے گا جسے بجلی کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت انڈسٹری سے تقریباً 131 ارب روپے کراس سبسڈی کی مد میں وصول کر رہی ہے، جو درحقیقت صنعت پر ایک اضافی ٹیکس کے مترادف ہے۔ یہ رقم لائف لائن صارفین کو دی جانے والی بجلی کی سبسڈی کے لیے انڈسٹری سے نکالی جا رہی ہے، حالانکہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں انڈسٹری پر اس طرح کی کراس سبسڈی کا کوئی تصور موجود نہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے لائف لائن صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، جو بظاہر ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کا بوجھ مکمل طور پر انڈسٹری پر ڈال دینا معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب کو سستی بجلی تو دے رہے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں صنعت تباہ ہو رہی ہے، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں اور یہی غریب طبقہ بے روزگار ہو رہا ہے۔کاٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کراس سبسڈی کی پالیسی پر نظرِثانی نہ کی تو برآمدات میں کمی، سرمایہ کاری کے انخلا اور صنعتی سرگرمیوں میں شدید جمود پیدا ہو جائے گا، جس کا اثر پوری معیشت پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کو سہارا دینا دراصل روزگار اور معیشت کو سہارا دینا ہے، جبکہ انڈسٹری سے پیسے لے کر سبسڈی دینا ملک کے معاشی مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، بلند شرح سود، خام مال کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں انڈسٹری سے سبسڈی کی مد میں اربوں روپے وصول کرنا صنعت کے لیے ناقابل برداشت ہے اس پالیسی کے باعث صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مزید یونٹس بند ہونے کا خدشہ ہے۔ کاٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لائف لائن صارفین کو سبسڈی دینے کے لیے متبادل ذرائع سے فنڈز اکٹھے کرے جس میں عمومی ٹیکس ریونیو، کفایت شعاری، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی یا دیگر سماجی تحفظ کے پروگرامز کے ذریعے اس سبسڈی کا بندوبست کرے، نہ کہ انڈسٹری کو مزید کمزور کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مترادف ہے کراس سبسڈی اس سبسڈی کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔