جاپان: سیاحتی ہیلی کاپٹر ماؤنٹ آسو کے قریب لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو(انٹرنیشنل ڈیسک) جاپان کے جنوب مغربی صوبے کماموٹو میں ماؤنٹ آسو کے قریب ہیلی کاپٹر لاپتا ہو گیا جس میں پائلٹ اور 2سیاح سوار تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ہیلی کاپٹر نے صبح آسو سٹی میں واقع آسو کڈلی ڈومین زو سے پرواز کی۔ 11 بجے ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار ایک شخص کے اسمارٹ فون میں حادثے کی اطلاع دینے والا فنکشن فعال ہو گیا ہے۔ پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ نے اس اطلاع کے بعد ماؤنٹ آسو کے ناکادا کریٹر کے قریب کے علاقے میں سرچ اور ریسکیو کا آغاز کردیا ۔ آپریٹر کمپنی کے مطابق ہیلی کاپٹر اپنی تیسری سیاحتی پرواز پر تھا اور پہلی 2پروازوں کے دوران اس میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔