Jasarat News:
2026-06-02@20:43:59 GMT

تاجر خواتین کو ہر ممکن سہولت دی جائے گی‘ بلال پاشا

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز بلال خان پاشا نے کہا ہے کہ تاجر خواتین کو ہر ممکن سہولت دی جائے گی اور ان کے چیمبروں لیے بعض قوائد و ضوابط کو نرم بھی کیا جائے گا۔ ڈی جی ٹی او کے نظام کو خود کار کیا جا رہا ہے جس سے چیمبروں کے مسائل حل کرنے اور معاملات درست بنانے میں مدد ملے گا۔ اسلام آباد ویمن چیمبر کی جانب سے منعقدہ چوتھی آل پاکستان ویمن چیمبرز پریزیڈنٹس انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چند ماہ میں اپنا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کر رہے ہیں جس کے بعد ہمارا سارا ڈیٹا اسے ایس ای سی پی اور ایف بی آر سے منسلک کر دیا جائے گا۔تمام ریکارڈ کمپیوٹرائیزڈ کیا جائے گا جبکہ تمام چیمبروں میں الیکشن کے لیے ای ووٹنگ بھی روشناس کروائی جائے گی۔کئی چیمبر ایکسپورٹ ڈویپلمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف)سے مدد لے رہے ہیں اور خواتین کے چیمبروں کو بھی اس سلسلے میں آگے آنے کی ضرورت ہے۔وفاقی چیمبر ای ڈی ایف کا ممبر ہے اس لیے خواتین اس سے رابطہ کریں۔ ایس ایم ایز کو بھی ای ڈی ایف کا ممبر بنایا جائے گا اور ان معاملات میں خواتین کی تعداد بڑھائے جائے گی۔ای ڈی ایف کا چیئرمین نجی شعبہ سے لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ بلال خان پاشا نے کہا کہ ڈی جی ٹی او کے ریجنل آفس کراچی اور لاہور میں بھی کھولے جا رہے ہیں جس سے تجارتی تنظیموں کے معاملات حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام فیصلے اپنی ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کریں گے تاکہ سب لوگ بروقت آگاہ رہ سکیں۔ بلال خان پاشا نے کہا کہ قوانین کو بہتر بنایا جا رہا ہے جبکہ کاغذی تنظیموں کا قلع قمع کیا جائے گا جبکہ ہر نئے چیمبر کی درخواست کا فیصلہ تین ماہ میں کر دیا جائے گاجبکہ دیگر ہر معاملہ کو ایک ماہ کے اندر اندر نمٹایا جائے گا۔ اس موقع پر ثمینہ فاضل اور دیگر حاضرین نے متعدد سوالات پوچھے اور ڈی جی ٹی او نے تمام مسائل حل کرنے کی یقین دیانی کروائی۔یو بی جی کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد شفافیت میں اضافہ، صوابدیدی اختیارات میں کمی اور بالخصوص تاجر خواتین کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔ نظام کو خودکار بنانے سے تاخیر میں کمی آئے گی۔ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی اس مطالبے کے ساتھ کہ خواتین کے ایوانوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ قائم کیا جائے تاکہ جامع تجارتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی ایف نے کہا کہ کیا جائے جائے گی جائے گا کیا جا

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور