سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ: پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ آئی جی سندھ کی کمیٹی میں غیر حاضری پر چیئرمین ممبران کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی جی سندھ کیوں نہیں آئے؟ اور نہ ہی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پولیس کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے قانون سازی کرنا وقت کی ضرورت ہے، آئی جی سندھ کیا گل پلازہ میں آگ بجھا رہے ہیں؟ یہ کمیٹی پولیس افسران کو ممبران کے سامنے جواب دہ بنانے کے لیے قانون سازی کرے، سندھ پولیس کو بلا کر پوچھا جائے کچے کے کتنے ڈاکو پکڑے؟ سندھ میں ایس ایچ او کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا اس وقت کہاں تھی پولیس؟ کیا پولیس صرف پارلیمنٹرین کی تذلیل ہی کرتی رہے گی؟اجلاس میں پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا۔ انوشہ رحمن نے کہا کہ میرے پیش کیے گئے بل کے حق میں این سی سی آئی اے بھی ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست پر قابل اعتراض مواد کو نہیں ہٹاتے تو کیا ہو گا؟ ڈی جی این سی سی آئی اے (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعاون کے لیے درخواست کر چکے ہیں۔ وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہم آزادی اظہار رائے پر پابندی عاید کر رہے ہیں، دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے، اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز کو پابند کیا جائے۔ بعدازاں سینیٹ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا نے کہا کہ
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔