data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-01-12
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد سوشل میڈیا پرافواہوں اور جعلی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے متعدد اکاؤنٹس اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے گل پلازہ یونین کی ایک جعلی مینٹیننس کی رسید وائرل کی جا رہی ہے۔اس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یونین کے صدر فی دکان سے 5,500 روپے یا بعض جگہوں پر 10ہزار روپے تک ماہانہ مینٹیننس وصول کررہے ہیں۔ یہ رسید مکمل طور پر جعلی ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔اصل صورتحال یہ ہے کہ گل پلازہ میں تقریباً 1200دکانیں ہیں اور فی دکان ماہانہ صرف 1,500 روپے مینٹیننس لی جاتی ہے۔ یہ رقم پلازہ کی صفائی،سیکورٹی، بجلی، پانی اور دیگر سہولیات پر خرچ ہوتی ہے۔ بعض اوقات انتظامیہ کو اپنی جیب سے بھی اضافی رقم لگانی پڑتی ہے ۔ اس جعلی رسید کی بنیاد پر غلط پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے جو سانحے کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔سینیئر صحافی فیصل حسین نے بھی اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل پر بیان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس گزشتہ رات سے مقتول کو قاتل ثابت کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور دکانداروں کو ذمے دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پیشہ ور ایکٹیوسٹس موجود ہیں جنہیں پیسے دے کر کوئی بھی مہم چلائی جا سکتی ہے۔عوام سے اپیل ہے کہ ایسی جعلی رسیدوں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔اصل حقائق اور دستاویزات خود چیک کریں اور سچائی کو آگے پھیلائیں تاکہ سانحے کے اصل ذمے داروں تک بات پہنچ سکے۔

منیر عقیل انصاری سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا گل پلازہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل