سوشل میڈیا پروائرل گل پلازہ سے منسوب مینٹینس رسید جعلی ہیں،فیصل حسین
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-01-12
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد سوشل میڈیا پرافواہوں اور جعلی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے متعدد اکاؤنٹس اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے گل پلازہ یونین کی ایک جعلی مینٹیننس کی رسید وائرل کی جا رہی ہے۔اس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یونین کے صدر فی دکان سے 5,500 روپے یا بعض جگہوں پر 10ہزار روپے تک ماہانہ مینٹیننس وصول کررہے ہیں۔ یہ رسید مکمل طور پر جعلی ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔اصل صورتحال یہ ہے کہ گل پلازہ میں تقریباً 1200دکانیں ہیں اور فی دکان ماہانہ صرف 1,500 روپے مینٹیننس لی جاتی ہے۔ یہ رقم پلازہ کی صفائی،سیکورٹی، بجلی، پانی اور دیگر سہولیات پر خرچ ہوتی ہے۔ بعض اوقات انتظامیہ کو اپنی جیب سے بھی اضافی رقم لگانی پڑتی ہے ۔ اس جعلی رسید کی بنیاد پر غلط پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے جو سانحے کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔سینیئر صحافی فیصل حسین نے بھی اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل پر بیان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس گزشتہ رات سے مقتول کو قاتل ثابت کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور دکانداروں کو ذمے دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پیشہ ور ایکٹیوسٹس موجود ہیں جنہیں پیسے دے کر کوئی بھی مہم چلائی جا سکتی ہے۔عوام سے اپیل ہے کہ ایسی جعلی رسیدوں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔اصل حقائق اور دستاویزات خود چیک کریں اور سچائی کو آگے پھیلائیں تاکہ سانحے کے اصل ذمے داروں تک بات پہنچ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا گل پلازہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔