مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری کیلئے 4 کروڑ گرانٹ کا نوٹیفکیشن جعلی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
لاہور: (نیوزڈیسک) وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بحاری نے ذاتی میک اَپ اور پریزنٹیشن کے اخراجات کے لیے 4 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ کا نوٹیفکیشن جعلی قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک نوٹیفیکیشن گردش کرتا رہا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری کے ذاتی میک اَپ اور پریزنٹیشن کے اخراجات کے لیے 4 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ منظور کی ہے۔
یہ مبینہ نوٹیفیکیشن وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گیا، تاہم اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے اس نوٹیفیکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا اور واضح کیا کہ اس کا حکومتِ پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس جعلی نوٹیفیکیشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا تھا کہ اس قسم کی فیک نیوز معاشرے میں انتشار اور بے چینی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔
کئی صارفین نے اس امر پر زور دیا کہ جب تک جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جائے گی اس رجحان کا خاتمہ ممکن نہیں جبکہ دیگر صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جھوٹے نوٹیفیکیشنز کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔