data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-11-12
لاہور(وقائع نگارخصوصی)کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتے کی شب لگنے والی ہولناک آگ پر 33 گھنٹے بعد قابو پایا جا سکا، تاہم اس دوران متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرنے سے تباہی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ افسوسناک واقعے میں دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 تک جا پہنچی ہے جبکہ 76 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اس اندوہناک سانحے پر ردعمل دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے اسے‘‘مجرمانہ غفلت’’قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری مقدمات درج کرنے اور سخت ترین سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ کراچی میں پیش آنے والے یہ سانحات کسی ایک حادثے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل المیے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ کبھی فیکٹریوں میں آگ لگتی ہے، کبھی کمرشل عمارتیں شعلوں کی نذر ہو جاتی ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، مگر بدقسمتی سے آج تک کسی ایک واقعے میں بھی ذمہ داروں کو حقیقی معنوں میں کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی براہ راست ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے جو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے انفورسمنٹ کے فقدان کا اعتراف دراصل اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو یہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت ہے، جس کی سزا صرف عوام کیوں بھگتیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فائر سیفٹی، بلڈنگ کوڈز اور ایمرجنسی رسپانس کے نظام پر عمل کیوں نہیں کروایا جاتا۔محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ گل پلازہ سانحے کو ایک مثال بنایا جائے، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کر کے عمارت کے مالکان، متعلقہ سرکاری اداروں اور ذمہ دار افسران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی سخت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے سانحات مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

سیف اللہ وقائع نگار خصوصی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاوید قصوری نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان