کراچی؛ غیر قانونی مقیم افغانوں کیخلاف کارروائیاں، 7 باشندوں کو حراست میں لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ضلع ساؤتھ پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف بھرپور اور منظم کارروائیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں آج 7 باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ مہزور علی کی خصوصی ہدایات پر اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مختلف علاقوں میں سرچ اور کومبنگ آپریشنز کیے جا رہے ہیں اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
ترجمان ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مطابق آج کی کارروائی کے دوران ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مختلف علاقوں میں مختلف تھانوں کی حدود سے غیر قانونی طور پر مقیم 7 افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔
حراست میں لیےجانے والوں میں صالح محمد ولد محمد رزاق، نصیر احمد ولد فضل رحمان، اللہ نظر ولد محمد علی، قادر شاہ ولد احمد شاہ، حبیب اللہ ولد برکت علی ، عبداللہ ولد آغا گل اور محرم ولد محمد بخش شامل ہیں۔
مزید پڑھیںغیر قانونی افغان پناہ گزین سکیورٹی چیلنج بن گئے، ترکیہ کی رپورٹ
ترجمان کے مطابق حراست میں لیے گئے تمام افراد بغیر کسی شناختی دستاویز کے غیر قانونی طور پر مقیم پائے گئے، تمام افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں ٹرانزٹ کیمپ روانہ کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: باشندوں کو حراست میں لیا ڈسٹرکٹ ساؤتھ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔