سانحہ گل پلازہ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی سنگین غفلت سامنے آگئی ہے، جہاں عمارت کا اپروول پلان نہ ملنے پر غیرقانونی طور پر ریوائز پلان جاری کیا گیا، اصل مالک بھی لاپتہ ہے.سابق ایس بی سی اے افسران نے راستوں پر اضافی دکانوں کی تعمیرات پر آنکھیں بند رکھیں۔دستاویزات کے مطابق 1980 میں قائم ہونے والی گل پلازہ مارکیٹ کا اصل اپروول پلان تاحال ریکارڈ میں موجود نہیں.

تاہم عمارت ریوائز پلان سامنے آیا جو غیرقانونی نکلا۔ گل پلازہ کو ریوائز پلان کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ہی 2005 میں کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ کا پلاٹ 8 ہزار 128 اسکوائر یارڈ پر مشتمل ہے، جو پلاٹ نمبر 32، پریڈی کوارٹر کراچی پر واقع ہے اور اس کا تاحال مالک گل محمد خانانی بتایا جاتا ہے تاہم نہ تو مالک اور نہ ہی اس کے ورثا کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات دستیاب ہیں جب کہ مالک کی جانب سے ایس بی سی اے میں نہ ریوائز پلان اور نہ ہی کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے لیے کوئی درخواست جمع کرائی گئی۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 1998 میں چار منزلہ تعمیر کے بعد رفیق جاپان والا نامی بلڈر نے ریوائز پلان کی اجازت کے لیے درخواست جمع کرائی، جو منظور نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ ریوائز پلان قمرالدین اور عبدالحسیب نامی افراد نے جمع کرایا تھا۔قانون کے مطابق کسی بھی تعمیر کے لیے لینڈ اتھارٹی سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی این او سیز لازمی ہوتی ہیں .تاہم گل پلازہ کے ریوائز پلان یا کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی این او سی موجود نہیں۔ مزید یہ کہ جس وقت ریوائز پلان جمع کرایا گیا، اس وقت ضلع جنوبی کی زمین کی لیز بھی ختم ہوچکی تھی اوربغیر پلاٹ لیز کے کسی قسم کی اپروول قانون کے مطابق نہیں دی جاسکتی۔ذرائع کے مطابق سابق ایس بی سی اے افسران نے عمارت میں راستوں پر اضافی دکانوں کی تعمیر پر آنکھیں بند رکھیں جب کہ غیرقانونی طور پر بیسمنٹ میں پارکنگ کی جگہ کو چھت پر منتقل کیا گیا۔ گل پلازہ کراچی کا واحد منصوبہ بتایا جاتا ہے جس میں پارکنگ چھت پر بنائی گئی۔

واضح رہے کہ شہر قائد میں ہفتے کی رات ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ مارکیٹ میں لگنے والی آگ کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی ہے جب کہ 85 تاحال لاپتہ ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ریوائز پلان ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان