نیشنل ایکشن پلان پر صوبائی حکومتیں آن بورڈ، کارروائیاں باہمی مشاورت سے جاری ہیں: طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری سیکیورٹی کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی حکومتوں کی مکمل معاونت اور مشاورت سے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا میں ہونے والے حالیہ آپریشنز میں بھی صوبائی حکومت پوری طرح آن بورڈ ہے اور متاثرہ علاقوں کے لیے مالی پیکج کی منظوری دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں کوئی کچے یا پکے کا ڈاکو نہیں، طلال چوہدری کا مخالفین پر وار
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں جو بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں، جو ابتدا میں 2014-15 میں بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو تشکیل دیا گیا، جس پر تمام صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں متفق ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد آج بھی صوبائی حکومتوں کی معاونت اور باہمی مشاورت کے ساتھ جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کی تعداد میں کیے جاتے ہیں، جو صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ہوتے ہیں۔ طلال چوہدری کے مطابق جن کارروائیوں کا ذکر حال ہی میں کیا گیا، وہ اس وقت خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا کے علاقوں میں جاری ہیں، جن میں صوبائی حکومت مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فائر وال اور پیکا قوانین کا مقصد اظہارِ رائے روکنا نہیں، وزیر مملکت طلال چوہدری
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ جن علاقوں میں آپریشنز ہو رہے ہیں وہاں کے عوام کے لیے ریلیف اور بحالی پیکج کے تحت صوبائی حکومت نے صوبائی کابینہ سے منظوری لے کر 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو مجموعی طور پر 5867 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
طلال چوہدری نیشنل ایکشن پلان وزیر مملکت داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری نیشنل ایکشن پلان وزیر مملکت داخلہ
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز