خون کی ہولی کھیلنے والے دہشتگردوں سے کوئی ہمدری نہیں، ہر صورت ایکشن ہوگا:طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی نالائقی کی وجہ سے خیبرپختونخوا جل رہا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو بنایا گیا تھا اور نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں صوبائی حکومت آن بورڈ ہے، جبکہ صوبے میں گزشتہ 14 برس سے ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہے، صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں۔
کابل: چینی ریسٹورنٹ میں دھماکہ،7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ خون کی ہولی کھیلنے والے دہشت گردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی، صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر ہے، یہ صرف سیاسی کارڈ کھیلتی رہی، آپ کی نالائقی کی وجہ سے پورا ملک دہشت گردی کا شکار ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو کس نے روکا کہ سی ٹی ڈی نہ بنائیں اور آپ کو کس نے روکا کہ کاؤنٹر ٹیررازم پر افواج کے ساتھ کھڑے نہ ہوں، جب آپ کو اجلاس میں بلایا جاتا ہے تو آپ کیوں نہیں آتے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 22 نکات شامل ہیں۔
رشتے کے تنازع پر 4افراد کو قتل کرنیوالے مجرم کی پھانسی کیخلاف اپیل خارج
انہوں نے این ایف سی پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو 5867 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔