وزیراعلیٰ پنجاب کی ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ، شفافیت ،گرین بیلٹس اور فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ، شہری سہولیات اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ گرین بیلٹس کا تحفظ اور بیوٹیفکیشن پلان ہر منصوبے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
لاہور میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق اجلاس میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں عوامی سہولت کے لیے اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، اس لیے ان کی بروقت تکمیل اور شفاف نگرانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل کے بعد کسی محکمے کو سڑک کھودنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مریم نواز نے شہری انفراسٹرکچر سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ شہروں میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، فٹ پاتھوں کی بروقت تعمیر اور مین ہولز کے یکساں معیار کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے مین ہولز چوری سے محفوظ ہوتے ہیں اور ان کی سطح سڑک کے برابر ہونی چاہیے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کے اطراف جوگنگ ٹریکس اور اوپن ایئر جم قائم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
وزیراعلیٰ نے عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹمز کی مکمل جانچ، اوپن ایئر وائرنگ کے خاتمے اور شارٹ سرکٹ سے بچاؤ کے اقدامات پر زور دیا، جبکہ شہریوں کے لیے واکنگ ٹریکس کی تعمیر کو بھی ضروری قرار دیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کی تزئین و آرائش، اوور ہیڈ برجز اور انڈر پاسز کی سجاوٹ، اور ان کے نیچے صفائی، گرین بیلٹس اور پلے ایریاز بنانے کی ہدایات دیں۔ اس کے ساتھ پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کے تمام منصوبوں کی جیو ٹیگنگ کا حکم بھی دیا گیا۔
مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب کے ہائی ویز پر مسافروں کی سہولت کے لیے واش رومز کے قیام کا جامع پلان طلب کیا گیا ہے، جبکہ ہر سیوریج اور ڈرینج منصوبے میں کھدائی کے بعد سڑکوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے ہر ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم اور مینجمنٹ سیل قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (پی ڈی پی) فیز ون میں شفاف اقدامات کے باعث 28 کروڑ روپے کی بچت ہوئی، جبکہ لاہور ڈویلپمنٹ پلان کا پہلا مرحلہ مکمل اور دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت سات شہروں میں 23 ارب 40 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، گجرات اور جھنگ میں سیوریج، ڈسپوزل، ڈرینج اور واٹر اسٹوریج ٹینکس تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ جہلم، حافظ آباد اور اوکاڑہ میں ٹرنک سیوریج، نئے ڈسپوزل پوائنٹس اور بارشی پانی کے نکاس کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ فیز ٹو کے تحت آٹھ شہروں میں سیوریج، ڈرینج، واٹر ٹینکس اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جن کے لیے 526 مشینری یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ترقیاتی منصوبوں مریم نواز نے کیے جائیں گے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘