آصف امین چیمہ کو جبری پاکستان بھیجنا منصفانہ عمل نہیں، اہلخانہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ریاست الی نوائے سے ڈیپورٹ آصف امین چیمہ کی بیٹیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انکے والد امریکا میں قانونی طور پر مقیم تھے اور انہیں جبری پاکستان بھیجنا منصفانہ عمل نہیں، بیٹیوں کا مطالبہ ہے کہ والد کو واپس امریکا آنے کی اجازت دی جائے۔
شکاگو کے علاقے ہمبولٹ پارک میں ریسٹورنٹ کے مالک آصف امین کی بیٹیوں کا دعویٰ ہے کہ انکے والد کو ستمبر میں اس وقت آئس نے گرفتار کرلیا تھا جب وہ اپنے کام پر جارہے تھے۔
بیٹیوں کا دعویٰ ہے کہ انکےوالد کے پاس ورک پرمٹ موجود تھا اور انکا گرین کارڈ لینے سے متعلق انٹرویو ہونے ہی والا تھا۔
آصف امین کو نومبر میں ڈیپورٹ کیا جانا تھا مگر فلائٹ پر سوار کیے جانے سے کچھ لمحے پہلے انہیں سینے میں شدید درد کی وجہ سے اسپتال داخل کرنا پڑا تھا۔
اس دوران اپیلز کورٹ نے انہیں امریکا میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا جس پر آصف امین کو یکم جنوری کو پاکستان ڈیپورٹ کردیا گیا تھا۔
آصف کی بیٹیوں نے سوال اٹھایا کہ آخر 1990ء کی دہائی کے پرانے ڈیپورٹیشن حکم نامے پر اچانک اب کیسے عمل کردیا گیا؟ایک اٹارنی نے انکے امیگریشن اسٹیٹس کو تبدیل کرنے میں معاونت کی تھی مگر انہیں علم نہیں کہ عشروں پرانا ڈیپورٹیشن حکمنامہ بھی والد کیخلاف موجود تھا۔
بیٹی ربیعہ امین نے کہا کہ خاندان ہر چیز قانون کے مطابق کررہا تھا مگر انکے والد کے ساتھ ایسا عمل کیا گیا۔
چیمہ نےدعویٰ کیا کہ گرفتاری کےدوران انہیں دوا تک نہیں دی گئی، بولے وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انہیں علم نہیں کہ وہ کب خاندان سے دوبارہ مل سکیں گے۔
آصف امین کے اہل خانہ کو توقع ہے کہ جج آگے بڑھ کر کیس کا ازسرنوجائزہ لیں گےتاکہ بچھڑا خاندان پھر سے ایک ساتھ امریکا میں رہ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔