محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اکثریت ہوتے ہوئے بھی اپنا پارٹی امیدوار لانے کی بجائے اچکزئی کو نامزد کیا۔ اس نامزدگی پر پنڈی کا اعتراض بنتا ہے۔ وہ یہ کہ محمود خان اچکزئی اب پرو طالبان ہوئے پھر رہے ہیں۔ ان کے نئے مؤقف کی وجہ ان کے علاقے کے تناظر میں سمجھنی ہو گی۔ اس مؤقف کی ایک قیمت وہ اپنی پارٹی تقسیم کی صورت ادا بھی کر چکے ہیں۔
آصف زرداری، نوازشریف، مولانا فضل الرحمان سب ہی محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے پر خوش ہونگے۔ اچکزئی پارلیمانی سیاست کرتے ہیں اور ان کا مزاج جمہوری ہے۔ اس کا اندازہ اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر پہلی تقریر سے لگایا جا سکتا ہے۔
اچکزئی کا کہنا تھا کہ حکومت تمام اچھے کاموں کے لیے ہمارے (اپوزیشن) کے ووٹوں کو بھی اپنا ووٹ تصور کرے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ایسی باتیں ہماری طرف سے نہ ہوں جو ہم گھروں میں ماؤں بہنوں کے سامنے نہیں کر سکتے۔
ان 2 باتوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کو محمود خان پارلیمانی انداز کی طرف کھینچ کر لا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے وقتی طور پر قومی اسمبلی میں احتجاج اور شور سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے مستقل کام غلیل بنانے اور شیشے توڑنے میں ذرا وقفہ لے کر تازہ دم ہو رہی ہو۔ کپتان کا اپنا مزاج بھی احتجاج اور اختلاف کی شدت کو بوائلنگ پوائنٹ پر لے جا کر ابالتے رکھنے کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن
میچ پی ٹی آئی کی طبعیت اور اچکزئی کے پارلیمانی انداز کے درمیان بھی پڑ سکتا ہے۔ یہ پارلیمانی انداز برقرار رہا تو حکومت کو پارلیمنٹ میں اتنی مشکل پیش آ سکتی ہے کہ پی ٹی آئی کا سڑکوں پر احتجاج یاد کر کے حکومت باقاعدہ ٹھنڈی آہیں بھرتی بھی دکھائی دے سکتی ہے۔ امید یہ رکھنی چاہیے کہ سیاست روڈ سے واپس پارلیمنٹ آ جائے، حوالدار بشیر کو بھی کچھ دن سیاست کی اون میں سلائی دے کر سویٹر بننے سے نجات ملے۔
محمود خان اچکزئی کا ماضی ان کے مستقبل کا پتا دیتا ہے۔ سنہ 1988 میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیر اعظم بنیں تو محمود خان اچکزئی کی پارٹی نے ان کی حمایت کی۔ سنہ 1990 میں نوازشریف وزیراعظم بنے، اچکزئی پی پی کی حمایت میں اپوزیشن کے ساتھ رہے۔ جب نوازشریف اور صدر غلام اسحق خان کی لڑائی ہوئی تو اچکزئی اپنے قریبی دوست افتخار گیلانی کے ساتھ بے نظیر اور نوازشریف کو غلام اسحق کے خلاف اتحاد کے لیے مناتے رہے۔ جب بے نظیر بھٹو نے غلام اسحق کا ساتھ دیا تو اچکزئی نوازشریف کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔ افتخار گیلانی بھی پی پی چھوڑ کر مسلم لیگ نون میں شامل ہوئے۔
مزید پڑھیے: امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا
اچکزئی طویل عرصہ نوازشریف کے اتحادی رہے۔ یہ اتحاد اب جا کر ٹوٹا ہے ۔ اچکزئی اپنی عادت مطابق اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عمران خان کے حق میں کھڑے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ محمود خان اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرتے۔ افغان طالبان کے حوالے سے ان کا مؤقف تبدیل ہوا ہے۔ طالبان کی واپسی سے پہلے قندھار میں طویل عرصہ اچکزئی اہم عہدوں پر رہے ہیں۔ اب نورزئی ملا ہبت اللہ کی قیادت میں طالبان افغانستان کے اقتدار میں واپس آئے ہیں۔ نورزئی اچکزئی پرانی قبائلی مخاصمت میں محمود خان اچکزئی کا اپنا مؤقف تبدیل کرنا مناسب دکھائی دیتا ہے ۔ یہ بات نہیں پسند آئی تو یوں کہہ لیں ایسا کرنے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔
افغانستان مستقل طور پر پنڈی کا ڈومین رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا فاٹا میں آپریشن، افغانستان، طالبان جیسے ایشو پر مؤقف پنڈی سے الٹ ہے۔ اس الٹ مؤقف کے ساتھ پی ٹی آئی اکثر ریاست کی مخالفت میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ بطور اپوزیشن لیڈر محمود خان ان سارے اختلافی امور کو پارلیمنٹ میں واپس لا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو مدہم اور دھیما کر سکتے ہیں۔ سول ملٹری ریلیشن مین ایک ری سیٹ کا امکان دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے
اسی مر نہ جائیے ایسا ہو جائے تو۔ ایک سینیئر و سیزنڈ سیاستدان اپنی اکلوتی سیٹ کے ساتھ جب پارلیمانی پوزیشن پر نمایاں ہوا ہے تو دل نے کیا کیا امید باندھی ہے۔ بلوچستان جہاں باپ پارٹی کی جھاڑو ایسی پھری کہ عوامی حمایت رکھنے والے سیاستدان غائب ہو گئے، ہر پارٹی میں ابا جی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں اب محمود خان ہی بچے ہیں جو معقول ہونے کے ساتھ مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ساری امید اسی معقولیت سے ہے، اس پر بھی اگر پی ٹی آئی کا احتجاجی شرارتی رنگ چڑھ گیا تو ہماری قسمت۔ نئے میثاق جمہوریت کا کیا ہوا، ہوا، نہ ہوا تو نہ ہوا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی افغان طالبان پی ٹی آئی عمران خان ملا ہبت اللہ میثاق جمہوریت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی افغان طالبان پی ٹی ا ئی ملا ہبت اللہ میثاق جمہوریت محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی سکتا ہے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز