اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین سے ملاقات میں ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے امریکی اسرائیلی ایجنٹوں کے حملوں کا ہدف بھی ہم ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد تنظیمات مدارس ہو یا ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم اسلامی مشترکات کی بات کی جاتی ہے، انہیں جاری رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ مولانا راجہ ناصر عباس کا سیاسی تحرک قابل تعریف ہے، ان کے مزید کامیابیوں کے لیے دعاگو ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وفاقی وزیر تعلیم اور اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین سید منیر حسین گیلانی سے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر اور سرپرست حوزہ علمیہ جامعة المنتظر حافظ سید ریاض حسین نجفی نے ان کی ڈی ایچ اے رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ مولانا مریدحسین نقوی،مولانا غلام باقر گھلو، مولانا غلام شبیر نجفی بھی ہمراہ تھے، جبکہ ملاقات میں معروف شاعر ادیب اور کالم نگار پروفیسر تنویر حیدر نقوی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں عالمی اور ملی صورتحال، ایران پر امریکی دباو، ملی تنظیموں اور مدارس دینیہ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اتفاق پایا گیا کہ ملت جعفریہ میں عالمی اور قومی سطح پر مضبوط اتحاد موجود ہے، قابل اطمینان ہے کہ تمام تنظیمیں ایک قیادت کے پیچھے ملی معاملات میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہیں، ملت جعفریہ کے خلاف جب بھی کسی غیرآئینی اقدام کی کوشش کی گئی اسے کامیابی کے ساتھ پسپا کیا گیا، البتہ تشویش کا اظہار کیا گیا کہ عزاداری کے مسائل حکومت کی غیر آئینی پالیسیوں کے باعث موجود ہیں، جن کے حل کے لئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن قومی شعور موجود ہے کہ جتنی بھی قربانیاں دینا پڑیں دیں گے، عزاداری سید الشہداء پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ملاقات میں مولانا صفدر حسین نجفی، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے حوالے سے درخشندہ یادوں کو تازہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ان شخصیات نے ملت جعفریہ کے تحفظ کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ سید منیر حسین گیلانی نے بزرگ عالم دین حافظ ریاض حسین نجفی کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطبات جمعہ میں قرآن مجید کو موضوع قرار دینے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں مدارس دینیہ نے ترقی کی ہے، محسن ملت مولانا صفدر حسین نجفی رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں ملک بھر میں مدارس کا جو جال بچھایا گیا، اس میں اضافہ ہونا قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس عزا اور محافل میں روایتی انداز کی بجائے، اب منبر حسینی پر علماء کی اکثریت تعلیمات مکتب اہل بیت پیش کرنے والی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں نظام قیادت کی چھتری تلے ملت جعفریہ نے اپنے حقوق کا تحفظ کیا، جس کا تسلسل مولانا سید محمد دہلوی، مفتی جعفر حسین، شہید علامہ عارف حسین الحسینی اور علامہ سید ساجد علی نقوی کی شکل میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام قائدین نے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق بہترین قیادت کی اور ملت جعفریہ سرفراز ہوئی۔ شہید الحینی کے بعد علامہ ساجد علی نقوی ملت جعفریہ پاکستان کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں متحرک کردار ادا کئے بغیر ملی حقوق کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ شہید عارف الحسینی نے انتخابی سیاست میں آنے کا فیصلہ 1987ء میں کیا، وہ پلیٹ فارم آج اسلامی تحریک پاکستان کی شکل میں موجود ہے۔

علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اتحاد ملت جعفریہ موجود ہے۔ ماضی میں کچھ نوجوانوں کو بہکایا گیا لیکن ایک تکفیری سرغنے کے قتل کیس میں علامہ سید ساجد علی نقوی کو گرفتار کیا گیا تو قوم اور علماء کو اندازہ ہوا کہ دشمنان اہل بیت اور تکفیریوں کا ہدف صرف قائد ملت جعفریہ ہیں، جنہیں وہ مختلف مسائل میں الجھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا دو سال پہلے شیعہ حقوق کو سلب کرنے کے لئے ایک متنازع بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہو چکا تھا مگر شیخ محسن علی نجفی رحمتہ اللہ علیہ کی تشویق، علامہ ساجد نقوی کی دعوت اور ہماری تائید سے ملک بھر سے علماء و ذاکرین اسلام آباد پہنچے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کے صرف اعلان نے ہی اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی اور متنازع بل واپس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد امت وقت کی ضرورت ہے، ہم تمام مکاتب فکر کے نظریات کا احترام کرتے ہیں، کسی پر اپنی رائے مسلط نہیں کرتے مگر شیعہ عقائد سے بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ آج پوری دنیا میں ایران اور شیعہ ہی اسلام کے محافظ بن کر مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی اسرائیلی ایجنٹوں کے حملوں کا ہدف بھی ہم ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد تنظیمات مدارس ہو یا ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم اسلامی مشترکات کی بات کی جاتی ہے، انہیں جاری رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ مولانا راجہ ناصر عباس کا سیاسی تحرک قابل تعریف ہے، ان کے مزید کامیابیوں کے لیے دعاگو ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ ساجد علی نقوی انہوں نے کہا ملت جعفریہ ملاقات میں حسین نجفی نے کہا کہ موجود ہے کہ اتحاد کیا گیا

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی