جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام: اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلا کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ احکامات خان یونس کے مشرقی علاقے بنی سہیلہ میں دیے گئے، جہاں درجنوں خاندان مقیم تھے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق پیر کے روز الرقیب محلے میں خیموں اور جزوی طور پر تباہ گھروں میں رہنے والے خاندانوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے پمفلٹس گرائے گئے۔ پمفلٹس میں عربی، عبرانی اور انگریزی زبان میں لکھا تھا کہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور فوری انخلا کیا جائے۔
رہائشیوں اور حماس کے ایک ذریعے کے مطابق جنگ بندی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اس نوعیت کے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
جنگ سے قبل اسرائیلی فوج ایسے پمفلٹس ان علاقوں میں گراتی تھی جہاں بعد میں کارروائیاں یا بمباری کی جاتی تھی، جس کے باعث خاندانوں کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑتی تھی۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر لڑائی رکی، اسرائیل نے غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلا کیا اور حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، تاہم اگلے مراحل پر فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔
بنی سہیلہ کے ایک رہائشی محمود کے مطابق انخلا کے احکامات سے کم از کم 70 خاندان متاثر ہوئے ہیں، جو مغرب کی جانب منتقل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیلی فوج نے کئی بار اپنی حدِ کنٹرول آگے بڑھائی ہے، جس سے فلسطینی علاقوں میں مزید زمین شامل کی جا رہی ہے۔
حماس کے زیر انتظام غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتی نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نے مشرقی خان یونس میں پانچ مرتبہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقہ بڑھایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق تازہ احکامات سے تقریباً 3 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں، جس سے انسانی بحران اور پناہ گاہوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اب تک 460 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مستقبل کے مراحل پر امریکا کی ثالثی میں بات چیت تاحال تعطل کا شکار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج کے مطابق
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔