امریکی مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ افیکٹ کافائدہ کسے ہوگا؟ ڈاکٹر لالانی نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست ٹیکساس کی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر سلیمان لالانی نے کہا ہے کہ آئندہ وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات میں ’’ٹرمپ ایفیکٹ‘‘ کا فائدہ ڈیموکریٹس کو پہنچے گا۔
ڈاکٹر سلیمان لالانی نے یہ بات جیونیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکی عوام کی بڑی تعداد بیزار ہو رہی ہے، جس کے اثرات مڈٹرم انتخابات میں واضح ہوں گے۔
ڈاکٹر لالانی امریکی ریاست ٹیکساس کے ڈسٹرکٹ 76 سے رکن اسمبلی ہیں اور ان کی مدتِ رکنیت 12 جنوری 2027 کو ختم ہو رہی ہے۔ وہ ایک امریکن پاکستانی ڈاکٹر، وکیل اور سیاستدان ہیں اور تیسری بار ریاستی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس بار بھی وہ اسی حلقے سے نمائندگی کے خواہاں ہیں، جبکہ ان کی ڈیموکریٹک پرائمری 3 مارچ کو منعقد ہوگی۔
ڈاکٹر لالانی کا کہنا تھا کہ امیگریشن، بارڈر سیکیورٹی اور معیشت سمیت ہر شعبے میں ری پبلکن پارٹی کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔
ان کے مطابق امیگرینٹ کمیونٹی امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے اقدامات سے شدید نالاں ہے، جس کا سیاسی اثر سامنے آ رہا ہے۔
ڈاکٹر لالانی نے مزید کہا کہ مختلف ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف، وینزویلا کے خلاف کارروائی اور دیگر بین الاقوامی اقدامات امریکی عوام کی توجہ ہٹانے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ہفتے قبل اپنی پارٹی کے امیدواروں اور رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ متحد ہو کر کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں، کیونکہ روایت ہے کہ جب صدر ری پبلکن ہو تو مڈٹرم انتخابات اکثر ڈیموکریٹس جیتتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس مڈٹرم انتخابات میں کامیاب ہو گئے تو وہ ان کے مواخذے کی کوشش کریں گے۔
ڈاکٹر لالانی نے دعویٰ کیا کہ حقیقت یہ ہے کہ ری پبلکن قیادت کو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ آزادانہ اور شفاف انداز میں مڈٹرم انتخابات نہیں جیت سکتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مڈٹرم انتخابات انتخابات میں لالانی نے ری پبلکن تھا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔