گلگت بلتستان میں ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ بحال، 12 کروڑ روپے جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سرکاری محکموں کے بجٹ سے کٹوتی کر کے وزیر اعلیٰ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کیلئے مجموعی طور پر 28 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی آپریشنلائزیشن کی مد میں بچنے والے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے بھی ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کیلئے منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ بحال کر دیا، صوبائی حکومت نے فنڈ کے تحت مفت علاج کیلئے 12 کروڑ روپے جاری کر دیئے۔ تاہم مجموعی طور پر اس مقصد کیلئے 28 کروڑ روپے مختص کر دیئے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری محکموں کے بجٹ سے کٹوتی کر کے وزیر اعلیٰ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کیلئے مجموعی طور پر 28 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی آپریشنلائزیشن کی مد میں بچنے والے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے بھی ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کیلئے منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت رواں سال جون تک مستحق مریضوں کا مفت علاج یقینی بنانا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کا قیام نون لیگ کی حکومت کے دور میں عمل میں لایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس فنڈ میں ایک ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ گزشتہ ایک دو سالوں کے دوران صوبائی حکومت مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے اور ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کیلئے حکومت کے پاس پیسے بھی ختم ہو گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے اس فنڈ کے تحت مریضوں کا علاج بند کر دیا گیا تھا۔ عوام کے شدید ردعمل کے بعد صوبائی حکومت نے 12 کروڑ روپے کا انتظام کر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت روپے مختص کروڑ روپے گئے ہیں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔