بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔
ٹرمپ نے اپنی صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی صلاحیتوں کا حامی ہوں، لیکن یہ اپنی مکمل صلاحیت پر پورا نہیں اترا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں سے اچھے تعلقات اور قیادت کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے سابق صدر مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پیرس میں ہونے والے G7 اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، کردوں کی حفاظت کی کوشش جاری ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں 8 طیارے گرائے گئے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں لاکھوں لوگ مرسکتے تھے، میں نے پاک بھارت جنگ رکوائی، پاک بھارت جنگ نہ رکتی تو 10 سے 20 ملین لوگ مارے جاتے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل لے چکے ہیں، روس، یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوشش کررہا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ اقوام متحدہ نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔