خواجہ آصف کا سیالکوٹ میں دو نمبر پیزا ہٹ کی برانچ کا افتتاح، کمپنی کا اہم بیان بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ’پیزا ہٹ‘ آؤٹ لیٹ کا افتتاح کیا لیکن چند ہی گھنٹوں بعد ’پیزا ہٹ پاکستان‘ نے اس آؤٹ لیٹ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے افتتاح کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے وزیر دفاع کا مذاق اڑایا۔ خرم اقبال نے لکھا کہ دھوکا دہی پر جعلی پیزا ہٹ والوں کےخلاف کارروائی تو ہونی چاہئے، ملک کے وزیر دفاع کو ہی چونا لگا دیا۔
دھوکہ دہی پر جعلی پیزا ہٹ والوں کےخلاف کارروائی تو ہونی چاہئے، مُلک کے وزیر دفاع کو ہی چونا لگا دیا۔۔!! pic.
— Khurram Iqbal (@khurram143) January 21, 2026
عادل نظامی نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی معصوم ہی ہیں، جعلی پیزا ہٹ کے افتتاح سے پہلے چھان بین تو کرنی چاہئے تھی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف بھی معصوم ہی ہیں، جعلی پیزا ہٹ کے افتتاح سے پہلے چھان بین تو کرنی چاہئے تھی۔ pic.twitter.com/c1QCYX291k
— Adil Nizami (@AdilNizami10) January 21, 2026
پیزا ہٹ پاکستان نے اپنے باضابطہ بیان میں واضح کیا کہ سیالکوٹ برانچ غیر مجاز ہے اور اس نے غلط طور پر ’پیزا ہٹ‘ کا نام اور برانڈنگ استعمال کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ آؤٹ لیٹ نہ تو ’پیزا ہٹ پاکستان‘ اور نہ ہی ’یم برانڈز‘ سے وابستہ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی معیار، ترکیبوں، فوڈ سیفٹی اور آپریشنل اصولوں پر عمل کرتا ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Pizza Hut Pakistan (@pizzahutpakistan)
پیزا ہٹ پاکستان نے مزید بتایا کہ انہوں نے فوری کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو باضابطہ طور پر اطلاع دی ہے تاکہ ٹریڈ مارک کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیزا ہٹ خواجہ آصف خواجہ آصف افتتاح سیالکوٹ سیالکوٹ پیزا ہٹ ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیزا ہٹ خواجہ ا صف خواجہ ا صف افتتاح سیالکوٹ ویڈیو وائرل پیزا ہٹ پاکستان جعلی پیزا ہٹ وزیر دفاع خواجہ آصف
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔