’جناب صدر! F*** Off‘، یورپی پارلیمنٹ میں صدر ٹرمپ پر سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے اور یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر سیاسی و اقتصادی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ڈنمارک کے ایم پی اینڈرس وسٹیزن نے یورپی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کو کھلے عام سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:وال اسٹریٹ میں بڑی گراوٹ، ٹرمپ کے گرین لینڈ ٹیریف دھمکی نے مارکیٹ میں ہلچل مچادی
اینڈرس وسٹیزن نے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا کہ گرین لینڈ 800 سال سے ڈنمارک کا حصہ ہے اور یہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے براہِ راست ٹرمپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’مسٹر صدر، ف* آف۔‘
ان کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ کے نائب صدر نے زبان کے استعمال کی وجہ سے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد ٹرمپ نے دوبارہ یورپی ممالک پر دباؤ ڈال کر 25 فیصد تک ٹیرفز لگانے کی دھمکی دی، خاص طور پر ان پر جو ڈنمارک کی حمایت کریں۔
اسی دوران، کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹیرف ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کینیڈا گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی معیشت میں دباؤ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطرناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ڈنمارک نے گرین لینڈ میں مزید فوجی تعینات کر دیے
کارنی نے کہا کہ طاقتور ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات نے عالمی نظام کو ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور مذاکراتی عمل کو ترجیح دینی ہوگی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا میں ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، سامراجی عزائم کے سامنے نہیں جھکیں گے‘۔
آرکٹک کے معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر امریکا اور نیٹو روس و چین کے مقابلے میں اس خطے میں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر کشیدگی اور تجارتی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
اس تنازعے نے بین الاقوامی تعلقات میں نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے، جہاں سیاسی بیان بازی، ٹیرف دھمکیاں اور دفاعی حکمت عملی ایک ساتھ جڑ گئی ہیں، جس کا اثر نہ صرف یورپ بلکہ شمالی امریکہ اور آرکٹک کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اینڈرس وسٹیزن ڈنمارک صدر ٹرمپ گرین لینڈ یورپی پارلیمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینڈرس وسٹیزن گرین لینڈ یورپی پارلیمنٹ یورپی پارلیمنٹ گرین لینڈ کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔