غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے عہدہ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کہ نیٹو فوجی اتحاد میری بدولت قائم ہوا اور میں نے جتنا کام نیٹو کے لیے کیا ہے کسی نے نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے کچھ ایسا کریں گے کہ نیٹو اور ہم دونوں خوش ہوں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں اور قیادت کے حوالے سے ہم آہنگی بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ پیرس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے کی کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ امریکا وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل حاصل کر چکا ہے۔
مزید پڑھیںیو اے ای کے بعد بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی
صدر ٹرمپ پھر پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران آٹھ طیارے گرائے گئے تھے اور اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر پاک بھارت جنگ نہ روکی جاتی تو لاکھوں افراد مارے جا سکتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جاری رہتی تو 10 سے 20 ملین جانوں کا نقصان ہو سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائیں یہ میں نے نوبل انعام کے لیے نہیں رکوائیں اب بھی روس یوکریں جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش کر رہا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔